(پنجند نیوز ایچ ڈی سوشل میڈیا نیٹ ورک (ویب ڈیسک)
ڈنمارک کے فیرو جزائر میں ہفتے کی رات کو ایک روایتی شکار کے حصے کے طور پر ایک ہزار سے زائد ڈولفنز کو ذبح کیے جانے پر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ’شکار کے دوران تقریباً 15 سو اٹلانٹک سفید چہرے والی ڈولفنز کو چاقوؤں اور برچھیوں سے مارا گیا۔ اس عمل کو ڈنمارک کے جزیروں کے رہائشی ’ "گرینڈادراپ" کہتے ہیں۔
سی شیفرڈ کیمپین گروپ نے سینکڑوں ڈولفنز کی فوٹیج شیئر کی جو ساحل پر مردہ حالت میں پڑی ہیں اور ان کے زخموں سے رسنے والے خون سے سمندر سرخ ہو رہا ہے۔
ویڈیو میں ایسے لوگوں کو بھی دکھایا گیا ہے جو کم گہرے پانی میں پھنسی نیم مردہ ڈولفنز کو روکنے اور مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سی شیفرڈ کیمپین گروپ نے فیس بک پر لکھا کہ ’کل فیرو جزائر نے فیروز کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا مجموعہ ذبح کیا۔‘
مقامی لوگوں کو اس قسم کے تمام شکاروں کو روکنے کا مطالبہ کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟
بہت سے دیگر لوگوں نے بھی اس عمل سے اپنی بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔آن لائن کیمپین کرنے والے گروپ بلیو پلینیٹ سوسائٹی نے ٹویٹ کی کہ ’جزائر فیرو میں کچھ لوگ کل 1428 سفید چہرے والے ڈولفنز کے قابل مذمت شکار کو "تاریخ کا سب سے بڑا گرائنڈراپ" قرار دے رہے ہیں۔‘
’اگر یہ درست ہے تو یہ واقعی خوفناک ہے۔‘
BREAKING
— Blue Planet Society (@Seasaver) September 13, 2021
According to reports the foreman of the grindadrap did not authorise last night's hunt of a superpod of an estimated 1000 white-sided dolphins as there were too many animals and too few men to avoid unnecessary suffering. https://t.co/qUCsd0ge7s
This is hard to write.
— Blue Planet Society (@Seasaver) September 13, 2021
The reckless, idiotic, irresponsible Faroe Islanders wiped out a superpod of 1428 white-sided dolphins in the hunt last night.
If Denmark and the EU don't act after this then they're complicit in the unsustainable massacre of protected species. @Tinganes
اس شکار کی روایت یہ ہے کہ کشتیاں ڈولفن یا وہیل کے ایک گروہ کو گھیر لیتی ہیں اور انہیں ایک خلیج یا لمبی تنگ سی جگہ لے جاتی ہیں جہاں انہیں ان کے گوشت کے لیے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اب اس عمل کو حکومت کی طرف سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور شکاریوں کو اس عمل کی تربیت حاصل کرنا ہوتی ہے اور انہیں صرف ان خلیجوں تک محدود رہنا ہوتا ہے جن کی حکومت طرف سے اجازت ہے۔
جزیرے کی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ ’جزائر فیرو میں وہیلنگ کو صدیوں سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔‘ قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ شکار اس طرح سے کیا جائے کہ وہیل کو ممکنہ حد تک کم تکلیف پہنچے۔‘ تاہم جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اس عمل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے وہ غیر ضروری اور ظالمانہ قرار دیتے ہیں۔

0 تبصرے