کراچی (کرائم رپورٹر) کراچی پولیس چیف نے شہر کے 30 تھانیداروں پر ایک سال کیلئے پابندی عائد کر دی، لسٹ میں شامل تمام افسران آئندہ 12 ماہ کیلئے شہر میں تھانیدار تعینات نہیں کئے جا سکیں گے۔ سابق تھانیداروں پر چھالیہ کی اسمگلنگ ، پانی کی فروخت، آرگنائز جرائم کی سرپرستی کے الزامات ہیں۔ نوکری سے برطرف 3 تھانیدار بھی فہرست کا حصہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس عمران یعقوب منہاس نے شہر میں گزشتہ عرصہ داراز سے تعینات 30 تھانیداروں پر اگلے ایک سال کیلئے ایس ایچ او لگنے پر پابندی عائد کر دی۔ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ جس کے مطابق سابق ایس ایچ او موچکو محمد وسیم، رفیق علی مغل، ایس ایچ او چاکیواڑہ ایوب سومرو ، پرویز علی مٹھانی، آغاز محمد اسلم، نصرت حسین شیخ، انسپکٹر عبید اللہ خان، وسیم احمد صدیقی ، محمد غیور، جاوید احمد بروہی، عبدالرسول سیال، عبداللہ بھٹو، اکبر نیاز رائے، عامر حسین، احمد خان نیازی، محمد اسلم خان، اشرف جان، منصور علی خان، اے ڈی چوہدری، کامران عشر، ارشد حسین، فرحان سرور، شمشاد چاچڑ، سلیم خان، سید راشد حسین جبکہ ملازمت سے برطرف سابق ایس ایچ او نیو کراچی انڈسٹریل ایریا سب انسپکٹر یونس خٹک، ایس ایچ او رضویہ سید راشد علی اور فرخ شہر یار بھی فہرست کا حصہ ہیں۔ تمام ایس ایچ اوز پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں۔ جس میں یونس خٹک کو منشیات فروش سے 30 لاکھ روپے رشوت کی وصولی کے عوض برطرف کیا جا چکا ہے۔ فرخ شہریار کو سینئر افسر کیخلاف رپورٹ مرتب کرنے پر نوکری سے فارغ کیا گیا، ایس ایچ او رضویہ راشد علی کو مبینہ غفلت برتنے پر عہدے سے برطرفی کے بعد ملازمت سے بھی فارغ کیا جا چکا ہے۔ دیگر 27 افسران پر آرگنائز جرائم سمیت منشیات فروشوں کی مبینہ سرپرستی، لینڈ گریبنگ اور سنگین جرائم کی روک تھام غفلت برتنے کا الزام ہے۔ شہر کے تینوں اضلاع کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو تمام افسران کی پابندی سے متعلق نوٹیفکیشن ارسال کر دیا گیا ہے۔ فہرست میں شامل تمام افسران اگلے 12 مہینے تک شہر میں تھانیدار تعینات نہیں ہو سکیں گے۔

0 تبصرے