-->

کشیدہ کاری میں ملک کا نام روشن کر دیا



(تحریر: عارف حسین ملک)
تحصیل علی پور (ضلع مظفرگڑھ) سفید اناروں کے باغات, تاریخی مقامات, تعلیمی اداروں اور دو دریاؤں کے سنگم میں واقع ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔ اب  کشیدہ کاری میں بھی تحصیل علی پور کے ہنر مند لوگ  ملک بھر میں علی پور کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ویسے تو تحصیل بھر میں خواتین مختلف اقسام کی کشیدہ کاری کا کام اکثر کرتی رہتی ہیں مگر وہ کام صرف گھریلو سطح کی ضرورت تک ہی محدود رہتا ہے۔ جبکہ تحصیل علی پور و جتوئی کے کچھ علاقوں میں دو ڈھائی عشرے قبل شروع ہونے والا لہنگے, میکسی, شرارہ اور فراک کا کشیدہ کاری کا کام اب بڑے پیمانے پر ہونے لگا ہے۔
چوک پرمٹ سے جتوئی شہر کے درمیان بارہ کلومیٹر فاصلہ میں آنے والے تمام علاقے پھلن شریف, جہان پور, ڈینہ والی موری, جنوب میں یاکیوالی, مکول اور جنوب مغرب میں سبائے والا تک کے تمام چھوٹے بڑے قصبوں اور گاؤں میں یہ کشیدہ کاری کا کام عروج پر ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں بھی کشیدہ کاری کے اڈے بنے ہوئے ہیں جہاں پر ہنرمند مرد کام کرتے ہیں جبکہ خواتین گھروں میں رہ کر یہ کام کرتی ہیں۔

علی پور کی کافی آبادی کا مزدوری کی غرض سے ملک کے بڑے شہروں میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ بڑے شہروں میں اس کام کی ڈیمانڈ سے متاثر ہو کر ہی یہاں کے لوگوں نے اس کام کو شروع کیا۔ آغاز میں چند لوگوں نے نمونے کے طور پر کچھ کام تیار کر کے بڑے شہروں کی بوتیک شاپس سے روابط قائم کیے۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی, لاہور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں کے بوتیکس کا مال آرڈر پر تیار کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ یہ کام تحصیل علی پور و جتوئی کے مزید علاقوں میں پھیلتا گیا۔ ان علاقوں میں کیونکہ کھیتوں کے کاموں میں مزدوری انتہائی کم ملتی تھی اس لیے زیادہ تر خواتین کشیدہ کاری کے کام سے وابستہ ہو گئیں۔
سوشل میڈیا کے آنے سے پہلے بوتیکس والے گورنمنٹ پوسٹ کے ذریعے کپڑا, کشیدہ کاری کا سامان اور ڈیزائن کی تصویر بھیج دیتے تھے اور یہاں کے ہنرمند مرد و خواتین اس تصویر کے ڈیزائن کے مطابق لہنگا, شرارہ یا فراک وغیرہ تیار کرتے۔ اب سوشل میڈیا کے آنے اور ٹرانسپورٹ سسٹم میں بہتری کی وجہ سے اس کام میں کافی سہولتیں آئی ہیں۔ اب ان علاقوں میں جگہ جگہ کشیدہ کاری کے میٹیریل کی دکانیں بھی کھل گئی ہیں اور یہ کام مزید علاقوں میں متعارف بھی ہو رہا ہے۔
مزید نیچے پڑھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان علاقوں میں تیار شدہ لہنگے, میکسی, شرارہ اور فراک وغیرہ نہ صرف کراچی, راولپنڈی, لاہور, گجرانوالہ, بہاولپور اور ملتان کے بڑے بڑے بوتیکس میں فروخت کیے جاتے ہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی اب بھیجے جانے لگے ہیں۔ بڑے بڑے برانڈز کا کام یہاں پر تیار ہوتا ہے۔
جہاں اس کام کی وجہ سے ملک بھر میں علی پور کی پہچان بڑھی ہے اور لوگ ہنرمند بنے ہیں وہاں چند قابلِ توجہ مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں کہ جن کا حل بےحد ضروری ہے۔ ان علاقوں میں اس کام میں اب مڈل مین اور انویسٹرز کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے۔ کشیدہ کاری کا یہ کام جتنا زیادہ خوبصورت ہے تو یہ اتنا ہی زیادہ محنت طلب بھی ہے۔ دن رات یہ کام کرنے والی خواتین کو انکی محنت کا صحیح معاوضہ نہیں ملتا۔ مقامی خواتین کے پاس اتنے وسائل اور معلومات نہیں ہوتیں کہ وہ بڑے شہر کے کسی بوتیک کے ساتھ ڈائریکٹ کام کر سکیں۔ اس لیے مڈل مین انکو خوب لوٹتا ہے اور محنت کے بغیر ان خواتین سے کئی گنا زیادہ کما لیتا ہے۔
اگر کوئی فلاحی ادارے اس علاقے کی خواتین کو بزنس کی بنیادی چیزوں پر ٹریننگز اور بڑے شہروں میں بوتیکس کے ساتھ ڈائریکٹ کام کرنے میں معاونت و رہنمائی کریں تو اس طرح نہ صرف اس علاقے کے ہزاروں گھرانوں کے معاشی حالات بہتر ہونگے بلکہ دیگر علاقوں کے لیے بھی یہ طریقہ اک ماڈل ہو گا۔ پاکستان میں بےشمار فلاحی ادارے و شخصیات لوگوں کی فلاح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں مگر حالات جوں کے توں ہیں۔ کیونکہ صاحبِ حیثیت شخصیات و فلاحی ادارے بھوکے کو مچھلی کھلا کر اپنا ثواب تو کما لیتے ہیں مگر حالات تب ٹھیک ہونگے کہ جب بھوکے کو مچھلی خود پکڑنا سکھایا جائے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے