-->

اتنے بڑے ظلم پر کاروائی نہ ہونا سوالیہ نشان ہے؟


علی پور (رضو تو لکھے گا) علی پور ناجائز تعلقات کا شبہ منہ کالا بال کاٹنے کے واقعہ پولیس کاروائی نہ ہوسکی لڑکے کا والد گرفتار دوگھنٹے بعد رہائی متاثرہ لڑکا لڑکی بدستور غائب لڑکے والد نے اپنے ہی بیٹے کے بال خود کاٹنے کابیان دیا ہے لڑکے کو کراچی بھیج دیا ہے پولیس کا بیان ڈی پی او مظفر گڑھ نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔
تفصیل کے مطابق علی پورتھانہ سٹی کے علاقہ محلہ قاضیاں میں ناجائز تعلقات کے شبہ میں زاہد کو گھر بند کرکے آصف شہزادککڑساجداور دیگرزاہل محلہ نے ماراپیٹا اور منہ کالا کرکے بال وبھنویں مونڈڈالیں اور محلہ کا چکر لگایا لڑکے کے والد کے ناک زمین پررگڑ کر معافی ملی تاہم دونوں فریقین نے چند نام نہاد معززین علاقہ کوشامل کرکے اس وقوعہ کو منظرعام پر نہ آنے دیا اور ایک معاہدہ کے تحت لڑکااور لڑکی کو عارضی طور پر علاقہ بدر کردیا ۔
جسکی تفصیل گزشتہ روز کے( پنجند ایچ ڈی نیوز سوشل میڈیا )کی تازہ ترین میں شائع ہوئی ۔خبرشائع ہونے پر ایس ایچ او سٹی نے لڑکے کے والدفضل کو گرفتار کیا بعدازاں اسے چھوڑ دیا گیا ایس ایچ او سٹی رضوان نے بتایا کہ لڑکے کے والد کو پوچھ گچھ کیلئے تھانہ لے آئے تاہم اس نے بتایا کہ اسکے بیٹے کا کردار ٹھیک نہ ہے آصف وغیرہ نے پہلے بھی مجھے گلہ شکوہ میرے بیٹے بارے کیاتھا تاہم گزشتہ روز کے واقعہ میں اس نے خود اپنے بیٹے کے بال وغیرہ کاٹے ہیں اور اسے کراچی بھیج دیا ہے تاہم کاروائی نہ کراناچاہتا ہوں۔
مزید نیچے پڑھیں             

 ایس ایچ او نے بتایا کہ مدعی کے بغیر کوئی بھی کاروائی نہ کرسکتے ہیں جبکہ دوسری طرف ڈی پی او مظفرگڑھ نے اس وقوعہ بارے تحقیقات کا حکم دے دیا ہےسپیشل برانچ نے بھی اپنی رپورٹ آفیسرز کو بھجوا دی ہےجبکہ ملک مجیب جکھڑایڈووکیٹ نے بتایا اتنے بڑے ظلم پر کاروائی نہ کرنا سوالیہ نشانہ ہے اگر فریقین وقوعہ کوچھپارہے ہیں تو پولیس خود مدعی بن سکتی ہے کاروائی نہ ہونےپر ملزمان کے مزید حوصلے بلند ہونگے اورجرائم میں اضافہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق زاہد لڑکے کا والد خوف کے مارے کاروائی سے انکاری ہے کہ میرے بیٹے کے خلاف بھی لڑکی سے زناہ کامقدمہ نہ درج ہوہوجائے تاہم پولیس ابھی تک لڑکا لڑکی کوسامنے نہ لاسکی ہے ارشاد حسین سابق کونسلر نے بتایا کہ وقوعہ کے روز گلی میں شوربرپاتھا اور چیخ وپکار کی آوازیںتھیں تاہم پنچایت کے ذریعے دونوں فریقین میں کوئی صلح نہ کرائی ہے وکیل ہوں خلاف قانون کام کیسے کرسکتا ہوں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے