-->

مولوی ، اتائی اور دائی


ہماری حکومتیں , ہمارا قومی میڈیا اور سوشل میڈیا ہمیشہ ہی ان تین لوگوں کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ ان کو بغیر سوچے سمجھے بہت برا بھلا کہا جاتا ہے۔ یہی تو پاکستانی قوم کی پہچان ہے کہ ہم حقائق جانے بغیر ترقی یافتہ اقوام سے بڑے متاثر ہو جاتے ہیں اور انکی مثالیں دیتے نہ ہمارے قلم گھستے ہیں اور نہ ہماری زبانیں تھکتی ہیں۔ 
مولوی, اتائی اور دائی۔ یہ تینوں لوگ ایسے ہیں کہ پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی کا ان کے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔ اس لیے ان پر تنقید اور انکے خاتمے کے بجائے اگر انکو بہتر کرنے کی پلاننگ کی جائے تو یہ پورے پاکستان کے لیے بہتر ہے۔ میں اس حوالے سے کچھ حقائق اور چند تجاویز پیش کر رہا ہوں, امید کافی ہے کہ آپ بھی حقیقت جاننے کے بعد اسکی تائید ضرور کریں گے اور اپنے اپنے پلیٹ فارم سے اسکو مزید بہتر بنانے میں اپنا کردار ضرور ادا کریں گے۔ 
مولوی۔۔۔
فرقہ وارانہ گفتگو اور اور زیادہ کھانے پینے کی وجہ سے مولوی صاحبان پر بڑی طنز ہوتی رہتی ہے۔ لوگ مختلف حیلوں حربوں سے مولویوں پر غصہ نکالتے رہتے ہیں۔ حقیقت میں اگر ہم اپنی زندگی کو مولوی صاحب کے بغیر تصور کریں تو ہمیں زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ مولوی صاحب ہماری میتوں کو غسل دیتے ہیں, ہمارے جنازے پڑھاتے ہیں اور باقاعدہ طور پر نمازوں کی امامت بھی کراتے ہیں۔ مولوی صاحب یہ سارے کام بغیر تنخواہ کے کرتے ہیں۔ 
مولوی صاحب کے ذریعے ہم اپنے معاشرے میں جو سب بڑی بہتری لا سکتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ مولوی صاحب کے پاس آگاہی کا بہترین پلیٹ فارم مسجد موجود ہے۔ پیسٹی سائیڈ کمپنیوں, این۔جی۔اوز اور سیاستدانوں کو اپنے پروگراموں میں بندے اکٹھے کرنے کے لیے بڑی محنت اور خرچے کرنے پڑتے ہیں۔ تب بھی کچھ لوگ آ تو جاتے ہیں مگر پروگرامز میں انکی توجہ نہیں ہوتی۔ جبکہ ہم مولوی صاحب کی شخصیت پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جمعہ نماز, عید نماز, خیرات, قل خوانی کی محفل و دیگر مذہبی محافل میں انکے سامنے سینکڑوں سامعین موجود ہوتے ہیں جو توجہ سے انکی بات سنتے ہیں۔ عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ جمعہ نماز کے بیان, عید نماز , قل خوانی و دیگر مذہبی محافل میں مولوی صاحبان زیادہ تر اسلامی تاریخی واقعات ہی بیان کرتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے سکول و کالج کی تعلیم حاصل نہیں کی ہوتی اس لیے انکے پاس جدید موضوعات پر معلومات ہی نہیں ہوتیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مولوی صاحب کا پلیٹ فارم معاشرے کی بہتری کے لیے ٹھیک طرح سے استعمال نہیں ہو پاتا۔ 
اگر ہم اپنے معاشرے میں مولوی صاحب کے پلیٹ فارم کے ذریعے بہتری لانا چاہیں تو اسکے لیے ہمیں یہ کرنا ہو گا کہ مولوی صاحب کو جدید موضوعات پر قرآن و حدیث کے حوالے سے ڈیٹا تلاش کر کے دینا ہو گا کہ جس سے تیاری کر کے مولوی صاحب عوام کو بیان کریں۔ مثال کے طور آج کے دور میں جن موضوعات پر زیادہ بات کرنے کی ضرورت ہے جیسے
فیملی پلاننگ
خواتین کے وراثتی حقوق 
بچیوں کی تعلیم کی اہمیت
بچیوں کے لیے شادی کی صحیح عمر
معاشی ترقی 
سرکاری املاک کی حفاظت
وبائی امراض سے احتیاط 
وغیرہ وغیرہ 
ان موضوعات پر بات کرنے کے لیے حکومت اور میڈیا بھی مولوی صاحبان سے درخواست کر سکتا ہے اور مقامی سطح پر کوئی بھی پڑھا لکھا شخص ان موضوعات پر معلومات , اعدادوشمار اور اسلامی تعلیمات مولوی صاحب سے شیئر کر کے انکو قائل کر سکتا ہے کہ وہ کسی مذہبی محفل میں اس موضوع پر بات کریں۔ ہر مولوی صاحب اپنے اپنے علاقے میں بڑی اہم شخصیت ہوتے ہیں اور بےشمار لوگ انکی بات پر توجہ دیتے ہیں اس لیے ایک مولوی صاحب کے ذریعے بھی سینکٹروں لوگوں تک اپنی بات بڑے مؤثر طریقے سے پہنچائی جا سکتی ہے۔ 
اتائی۔۔۔
اتائی ہر چھوٹے بڑے گاؤں میں موجود ہوتے ہیں۔ کیونکہ سرکاری ہسپتال بہت دور ہوتے ہیں اور ان میں اکثر یا تو عملہ موجود نہیں ہوتا یا پھر ادویات موجود نہیں ہوتیں اور پرائیویٹ ہسپتال بہت مہنگے ہوتے ہیں اس لیے عام لوگوں کو مجبوراً اتائیوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔ یونین کونسل کی سطح پر چالیس سے پچاس ہزار کی آبادی کے لیے صرف ایک بنیادی مرکز صحت ہوتا ہے جو کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے انتہائی ناکافی ہوتا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتال مہنگے تو ہوتے ہی ہیں مگر وہ صرف ہوتے بھی شہر میں ہیں۔ غریب لوگوں کا گاؤں سے شہر آنے میں جتنا کرایہ لگتا ہے تو اتنے روپوں میں اتائی سے دوائی مل جاتی ہے۔ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی بدمزاجی ، عدم توجہ اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے لالچی ڈاکٹروں کے کمیشن والے نسخوں اور بلاوجہ ٹیسٹ کرانے کے حربوں سے ہر بندہ واقف ہے اس لیے انتہائی مجبوری کے علاوہ انکے پاس نہیں جاتے۔
اتائی کیونکہ عام لوگوں کے ساتھ انکے گاؤں میں گھل مل کر رہتا ہے اس لیے گاؤں کے لوگ اس پر بہت بھروسہ کرتے ہیں۔ حکومت اگر اتائیوں کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسکو زیادہ سے زیادہ نئے ہسپتال بنانے ہونگے اور ان میں میڈیسن بھی پوری رکھنی ہوں گی اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو بھی بندے کا پتر بنانا ہو گا, مگر یہ کسی بھی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ صحت کا شعبہ کبھی بھی حکومتوں کی ترجیح نہیں رہا۔ 
حکومت اگر خرچہ کیے بغیر صحت کے شعبے کی بہتری چاہتی ہے تو اسے اتائیت کے مکمل خاتمے کی بجائے اس میں ہی بہتری لانے کے اقدامات کرنے ہونگے۔ مثال کے طور پر حکومت فیکلٹی سے اور سکلز ڈویلپمنٹ کونسل سے ڈسپنسر کا ڈپلومہ کرنے والوں کو محدود پریکٹس کی اجازت دے دے اور ڈپلومہ کے بغیر پریکٹس کرنے والے اتائیوں پر بیشک پابندی لگا دی جائے۔ ڈپلومہ ہولڈرز کے لیے محدود پریکٹس یعنی کھانسی, نزلہ ,بخار کی دوائی اور کسی معمولی چوٹ کی پٹی کرنے تک ہو۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو بنیادی مراکز صحت میں بھی سارا نظام ڈسپنسر ڈپلومہ ہولڈرز نے ہی سنبھالا ہوتا ہے۔ محکمہ صحت کچھ حدود و قیود طے کر دے کہ جن کے اندر رہتے ہوئے ڈسپنسر ڈپلومہ ہولڈرز پرائیویٹ طور پر پریکٹس کر سکیں۔ گاؤں کے لوگوں کو اکثر سر درد کی گولی کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ وہ سر درد کے لیے پرائیویٹ ہسپتال میں اپنے ہفتے بھر کی کمائی لٹا دیں یا وہ دور سرکاری ہسپتال میں سفر کر کے جائیں اور وہاں پر جا کے پتہ چلے کہ دوائی ختم ہو گئی ہے یا ہسپتال کا ٹائم ختم ہو گیا ہے تو اس طرح سر درد کا مریض ذہنی مریض بھی ضرور بن جائے گا۔ بہتری اسی میں ہے کہ اتائیت کے خاتمے کی کوششوں کے بجائے اتائیت میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے۔ ورنہ اتائیت نے ختم تو ویسے بھی نہیں ہونا۔
دائی۔۔۔
جوتا سروس اور باٹا کا اچھا ہوتا ہے, یہ چائنہ کے جوتے پہننے والے غریب لوگ بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں مگر وہ اپنی غربت کی وجہ سے مجبور ہوتے ہیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شہروں میں بسنے والے لوگ دیہی علاقوں کے ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ لوگوں کو لیکچر دینا چاہتے ہیں کہ اپنی خواتین کی ڈیلیوری کسی ماہر لیڈی ڈاکٹر سے کرائیں تو انکے لیے عرض ہے کہ غریب لوگ آپکے اس لیکچر سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لوگ پرائیوٹ ہسپتالوں کی مہنگی فیس برداشت نہیں کر سکتے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ رات کے وقت کسی خاتون کو ڈیلیوری ہونے لگے تو اس وقت شہر جانے کے لیے سواری نہیں ہوتی, سواری ہو تو رات کے سفر میں ڈکیتیوں کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ رات کے وقت بنیادی مراکز صحت بھی بند ہوتے ہیں۔ تحصیل بھر میں بس اکا دکا بنیادی مرکز صحت پر چوبیس گھنٹے کھلا رہنے کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ ان حالات میں گاؤں میں سب سے بڑی سہولت مقامی دائی ہوتی ہے جو کہ آدھی رات کو بھی گھر بلائی جا سکتی ہے۔ پورے پاکستان کے دیہی علاقوں میں مقامی دائیوں کے ذریعے ہی بےشمار ڈیلیوریاں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ایسے واقعات بھی سننے میں آتے ہیں کہ دائی کی کم علمی کی وجہ سے زچہ یا بچہ کی موت واقع ہو گئی, مگر کیا کریں مجبور کہاں جائیں۔
اگلے کئی عشروں تک حکومت سے تو نئے بنیادی مراکز صحت بننے کی کوئی امید نہیں ہے کیونکہ یہ جو بنیادی مراکز صحت کئی عشرے قبل بنے تھے یہ تو کسی بھی حکومت سے سنبھالے ہی نہیں گئے۔ اس لیے موجودہ مسائل کا حل اسی میں ہے کہ محکمہ صحت کی طرف سے یا این۔جی۔اوز کی طرف سے مقامی دائیوں کی ٹریننگز کرائی جائیں۔ ان دائیوں کو نارمل کیسز کے لیے ٹرین کرنے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ کیسز کو بروقت ریفر کرنے پر بھی معلومات دی جائیں تاکہ حاملہ خاتون کی فیملی بروقت پیسوں اور سواری کا بندوبست کر سکیں۔ اسی طرح حاملہ خواتین کے لیے خوراک کا شیڈول اور احتیاط پر معلومات دے کر مقامی دائیوں کی صلاحیت بڑھائی جا سکتی ہے۔ پاکستان  میں اس وقت زچہ و بچہ کی شرح اموات کے اعدادوشمار انتہائی خطرناک حد تک ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے کچھ حد تک بہتری ضرور لائی جا سکتی ہے۔
Central Asia Consult Group Sub Office Alipur

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے