-->

جنوبی پنجاب کی دیسی مرچ

تحریر(عارف حسین ملک) پاکستان میں مرچ کی بےشمار اقسام موجود ہیں۔ مختلف کمپنیاں مرچ کی ایسی ایسی اقسام تیار کر چکی ہیں کہ ان کی ترجیح ذائقہ کی بجائے زیادہ وزن ہوتا ہے۔ اچھی کمائی حاصل کرنے کے لیے  کسان حضرات بھی یہ نئی نئی ورائیٹیاں کاشت کر رہے ہیں۔ مارکیٹ میں موجود ہری مرچوں میں سے کچھ کا ذائقہ انتہائی پھیکا پھیکا ہوتا ہے کہ پھر نمک مزید ڈالنا پڑتا ہے اور کچھ کا ذائقہ اتنا تیکھا ہوتا ہے کہ پھر پانچ گلاس پانی پینے کے باوجود بھی زبان سے دھواں نکلتا رہتا ہے۔ یہی حال لال مرچ کا ہے کہ یا تو ذرہ سی مرچ ڈالنے پر سالن کا رنگ شربت کی طرح لال یا پھر ڈالتے ہی ڈالتے ہی جائیں رنگ نہیں نکلتا, البتہ کھانے پر کانوں سے دھواں ضرور نکل آتا ہے۔
لال مرچ کی ہائی بریڈ اقسام آجکل زیادہ مشہور ہیں۔ کیونکہ ہائی بریڈ اقسام کی مرچ میں بیج کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے اسکی فصل وزن زیادہ نکالتی ہیں۔ مرچ کا جب وزن زیادہ ہوتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ کاشتکار کے لیے آمدن زیادہ۔
اگر ذائقے کے حساب سے دیکھیں تو جنوبی پنجاب کی دیسی مرچ کا پورے پاکستان میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ یہ مرچ چاہے ہری استعمال کریں یا لال, ذائقے اور رنگت میں اسکا توازن بہترین ہے۔ اسکا تیکھا پن ہائی بریڈ مرچ کی طرح نہیں ہے کہ جو زبان جلا دے, بلکہ ایسا ہے کہ جیسے زبان کے لیے فطری طور پر ہو۔ ھائی بریڈ مرچ کی نسبت دیسی مرچ میں بیج بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ دیسی مرچ ھائی بریڈ مرچ سے زیادہ لمبی اور موٹی ہوتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں دیسی مرچ عموماً فروری مارچ میں کاشت کی جاتی ہے اور یہ اکتوبر نومبر تک رہتی ہے۔ اگرچہ دیسی مرچ کی فی ایکڑ پیداوار ھائی بریڈ مرچ جتنا تو نہیں ہوتی مگر پھر بھی مناسب آمدن دے جاتی ہے۔ دیسی مرچ ہری بھی فروخت ہوتی ہے اور لال بھی۔
ہائی بریڈ اقسام آنے کے بعد دیسی مرچ کو جنوبی پنجاب میں اب عموماً چھوٹے کاشتکار اور شوقین لوگ ہی کاشت کرتے ہیں۔ 
آپ لوگوں نے بھی اگر اپنے کھانوں کو بہتر بنانا ہے تو اپنے کچن گارڈن میں جنوبی پنجاب کی دیسی مرچ ضرور لگائیں اور اگر زیادہ زمین مہیا ہو تو سال بھر کے استعمال کے لیے اپنی ہی لال مرچ تیار کر  لیں۔ کیونکہ مارکیٹ سے یہ آپکو بہت مشکل سے ملے گی۔
Central Asia Consult Group Sub Office Alipur

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے