تحریر(عارف حسین ملک) جس گھر کا سربراہ کمزور، نااہل یا غافل ہو تو اس گھر کے افراد دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ اب دوسروں کی مرضی کہ وہ اس گھر کے افراد کے ساتھ، انکے مسائل اور وسائل کے ساتھ جو سلوک کریں۔ اگر ہم سول سوسائٹی پر غور کریں تو وہ بھی اک طرح سے کسی مخصوص علاقے کی سربراہ ہی ہوتی ہے اور اس علاقے میں میں بسنے والی عوام اسکے گھر کے افراد کی طرح ہے۔ عوام اگر اپنے حقوق سے ناواقف ہے تو اس علاقے کی سول سوسائٹی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عام لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے۔
اگر ہم چالیس لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والے ضلع مظفرگڑھ کی سول سوسائٹی کی بات کریں تو جو سلوک انہوں نے ضلع مظفرگڑھ کی عوام کے ساتھ کیا ہے وہ بہت ہی مایوس کن ہے۔ 2010ء کے سیلاب کے بعد ضلع مظفرگڑھ میں درجنوں این۔جی۔اوز نے مختلف پراجیکٹس پر کام کیے۔ ان این۔جی۔اوز میں سے چند ایک نے تو اچھی طرح کام کیا مگر اکثریت ان این۔جی۔اوز کی ہے کہ جنہوں نے کرپشن, غلط معلومات, غلط اعدادوشمار اور جعلی سرگرمیوں کی انتہا کر دی۔ ضلع مظفرگڑھ کی سول سوسائٹی کو ان این۔جی۔اوز نے ہوٹلوں پر پرتکلف دعوتوں پر ہی ٹرخائے رکھا۔ حتٰی کہ میڈیا بھی انکے جھانسے میں آ گیا۔
ضلع مظفرگڑھ میں کرپٹ اور جعلی کام کرنے والی این۔جی۔اوز کو میں وقتاً فوقتاً انشاءاللہ بےنقاب کرتا رہوں گا, آج جس جعلی پراجیکٹ پر لکھ رہا ہوں تو اسکو جان کر آپکے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔
تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ اک این۔جی۔او نے کاغذات میں ضلع مظفرگڑھ کو "کھلے پاخانے سے پاک ضلع" قرار دلا دیا ہے۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جو شاید امریکہ و یورپ میں بھی کوئی نہ کرے, مگر ضلع مظفرگڑھ میں یہ کاغذوں میں پورا ہو گیا۔ پونے دو سو کلومیٹر لمبے, چالیس لاکھ سے زائد آبادی والے, شرح خواندگی میں پنجاب کے چھتیس اضلاع میں سے آخری نمبر پر موجود اور تین اطراف سے دریاؤں کی زد میں موجود پسماندہ ضلع مظفرگڑھ کو "کھلے میں پاخانہ سے پاک ضلع" قرار دینا اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ جیسے کوئی دن کو رات کہے اور رات کو دن کہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے بیشک ہر گاؤں میں کھلا پاخانہ موجود دیکھیں مگر کیونکہ کاغذوں میں اس ضلع کو کھلے پاخانہ سے پاک ضلع قرار دیا جا چکا ہے اس لیے اب اس مسئلہ پر اس ضلع میں نہ ہی حکومت کوئی کام کرے گی اور نہ ہی کوئی اور این۔جی۔او۔ ضلع مظفرگڑھ کی عوام کے ساتھ یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔
قارئين کرام اس پراجیکٹ میں کاغذوں میں جعلی سرگرمیوں کے ذریعے جو ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے جعلی سرگرمیاں پلان کی گئیں انکی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ پراجیکٹ کے آغاز میں علاقوں کا جو سروے کرایا گیا تو اس میں پہلے سے موجود لیٹرینز کی تعداد کم لکھی گئی۔ یعنی پچاس گھرانوں کے کسی گاؤں میں اگر بیس لیٹرینز موجود ہیں تو انکو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دس لیٹرینز لکھا گیا۔ پھر چند ماہ کی جعلی سرگرمیوں کے بعد پراجیکٹ مکمل ہونے کے وقت دوسرے سروے میں اس گاؤں میں لیٹرینز کی اصل تعداد یعنی بیس لکھی گئی۔ اس طرح جعلی اور غلط اعدادوشمار کے سروے کے ذریعے این۔جی۔او نے پہلے سے موجود لیٹرینز کو ڈونر اداروں کے سامنے اپنی پراگریس کے طور پر ظاہر کیا۔ ڈونر اداروں میں عموماً باہر کے ملکوں کے لوگ ہوتے ہیں, انکے وزٹ کے وقت مخصوص گاؤں میں اک اسٹیج سجایا جاتا ہے اور کچھ مقامی لوگوں کو طوطے کی طرح این۔جی۔او کی تعریف کے چند الفاظ کا رٹا لگوا کر ڈونرز کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کا کھیل کھیلنے کے بعد وہ این۔جی۔او والے خوش ہو رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے ڈونرز (انگریزوں) کو دھوکہ دیا ہے مگر حقیقت میں وہ اپنے وطن اور اپنے ہی لوگوں کے ساتھ غداری کر رہے ہوتے ہیں۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جتنے عرصے میں این۔جی۔او نے ضلع مظفرگڑھ میں لوگوں کو کھلے پاخانہ کے نقصانات اور لیٹرینز کی ضرورت پر قائل کرنے کا دعویٰ کیا تو اتنا مختصر عرصہ میں تو اس پراجیکٹ کے سٹاف نے ضلع مظفرگڑھ کے پورے گاؤں بھی نہیں دیکھے ہونگے۔ مثال کے طور پر ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں این۔جی۔او نے محض چھ ماہ ہی کام کیا۔ چند لوگوں کے سٹاف کے ساتھ چھ ماہ میں ہی انہوں نے جعلی اعدادوشمار کے ذریعے کاغذ بھر دیے کہ انہوں نے تحصیل علی پور کو کھلے پاخانہ سے پاک رکھنے پر تحصیل بھر کے لوگوں کو قائل کر لیا ہے۔ اگر ہم دوسری طرف دیکھیں تو تحصیل علی پور میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے قومی خوشحالی سروے کافی زیادہ سٹاف کے ذریعے جاری ہے کہ جس میں گھرانوں کے صرف اعدادوشمار ہی لکھنے ہوتے ہیں۔ اس لیے صرف چھ ماہ میں ہی این۔جی۔او کی طرف سے تحصیل علی پور کو کھلے پاخانہ سے پاک کرنے کا دعویٰ ایسا ہے کہ یہاں پر انسان کی چھٹی حس بھی جواب دے جاتی ہے۔ تحصیل علی پور کے کل ایریا کا آدھے کے لگ بھگ ایریا کچے کا علاقہ کہلاتا ہے جو کہ مشرق اور جنوب مشرق میں دریائے چناب, مغرب و جنوب مغرب میں دریائے سندھ کے پار موجود ہے۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس این۔جی۔او کے پراجیکٹ سٹاف نے کچے علاقے کے پورے گاؤں بھی اک نظر نہیں دیکھے ہونگے۔ چھ ماہ میں بس خالی کھلے پاخانے سے پاک گاؤں کے بس بورڈ ہی لگ سکتے ہیں مگر چند پاکستانیوں نے ہی انگریزوں (ڈونرز) کو دھوکہ دے کر پسماندہ علاقے کے پاکستانیوں کو برباد کر ڈالا۔
افسوس کہ ضلع مظفرگڑھ کی سول سوسائٹی این۔جی۔اوز کی طرف سے ہوٹلز پر چکن کڑاہی کے بدلے ضلع بھر کی لاکھوں عوام کے مفادات کو پس ِ پشت ڈال دیتی ہے۔


0 تبصرے