(رضو تو لکھے گا) 8لاکھ سے زائد کی آبادی پر مشتمل تحصیل علی پور مسائلستان کا گڑھ بن چکی ہے کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والا سیوریج سسٹم چھ ماہ میں ہی ناکارہ ہوگیا تھا جسکا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں اور آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی سیوریج کا گندہ پانی زیر زمین پانی کو بھی آلودہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے شہر بھر کے پینے کا پانی مضر صحت ہوچکا ہے ابھی ساون کی پہلی بارش ہوئی تو سرکل روڈ پر بارش کا پانی جمع ہونے سے پورا شہر دوآبہ کا منظر پیش کرنے لگا بارش کا پانی جمع ہونے سے سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں شہر میں ہلکی سی بارش ہو جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے سیلاب امڈ آیا ہے علی پور شہر میں بارش آجائے تو ایک چوک سے دوسرے چوک تک جانے کیلئے کشتیوں کی ضرورت پڑنے لگتی ہے ابھی تو ساون کی پہلی بارش ہوئی ہے تو یہ حال ہے جب بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا تو اس وقت کیا حال ہوگا یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ، گلی محلے بارش اور سیوریج کے گندے پانی سے جوہڑ کا منظر پیش کرنے لگے ہیں جسکی وجہ سے شہری صاف پانی پینے سے بھی محروم ہیں مضر صحت پانی پینے سے شہریوں میں مہلک بیماریاں پھیلنے لگی ہیں شہر میں چار واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے گئے جن میں سے صرف ایک واٹر فلٹریشن پلانٹ کا پانی پینے کے قابل ہے باقی تینوں واٹر فلٹریشن پلانٹ کا پانی بھی آلودہ ہے اور وہ بھی اکثر وبیشتر بند رہتے ہیں جنکی مرمت کے نام پر آئے روز کرپشن کی جاتی ہے شہر میں صرف ایک واٹر فلٹریشن پلانٹ چالو ہونے سے شہریوں کو بڑی بڑی لائنوں میں لگ کر پانی حاصل کرنا پڑتا ہے جس سے شہریوں کو اذیت سے گزرنا پڑتا ہے واٹر فلٹریشن پلانٹ کو ناکام کرنے کیلئے منرل واٹر مافیا بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ انکا کاروبار بھی چل سکے شہر بھر کے دکاندار اور ہوٹل مالکان و شہری مقامی منرل واٹر کمپنیوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں جن کو ری فلنگ کر کے غیر معیاری پانی مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے ، شہر میں صاف پانی کی سپلائی کیلئے خطیر رقم سے تیار ہونے والا منصوبہ جس میں پانی کی ٹینکی تیار کر کے شہر میں پائپ لائن بھی بچھا دی گئی تھی لیکن ایک بوند پانی بھی شہریوں تک نہ پہنچ سکا یہ منصوبہ بھی کرپشن کی نظر ہوگیا آج بھی پانی کی ٹینکی آثار قدیمہ کی عمارتوں کی طرح موجود ہے ، شہر کے وسط سے گزرنے والا بہاول نالہ جو فصلات کو سیرب کرتا تھا اب گندے نالے میں تبدیل ہو چکا ہے سیوریج سسٹم ناکارہ ہونے کی وجہ سے بڑے بڑے تعلیمی اداروں، پرائیویٹ ہسپتال اور ملحقہ آبادی کے گٹروں کے پانی سے گندے نالے میں تبدیل ہو چکا ہے جسکی بدبو سے تعفن جیسی موذی امراض کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ چکا ہے اور یہی زہر آلود گندہ پانی جہاں آبادی کے پانی کو آلودہ کر رہا ہے وہی پر اس گندے پانی سے سبزیاں اور فصلات اگائی جارہی ہیں اور جانور بیچارے یہی گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں اسی نالے پر موجودہ ایم این اے اور تین سابق ایم پی ایز کا گھر موجود ہے گندے پانی کی بدبو ضرور انکے گھر کے دروازوں کو چھوتی ہوگی لیکن آج تک انہوں نے اس کیلئے کچھ نہیں کیا بلکہ چپ سادھ رکھی ہے ، علی پور کے مضافاتی علاقوں فتح پور جنوبی اور خیر پورسادات کا پانی تو ویسے ہی پینے کے قابل نہیں ہے بلکہ کھارا پانی ہے عرصہ دراز سے وہاں کے رہائشی صاف پانی کے حصول کیلئے چیخ و پکار کر رہے ہیں لیکن انکی کوئی فریاد نہیں سن رہا ، اسی طرح سیت پور کی بات کی جائے تو سیت پور میں بھی سیوریج سسٹم ناکارہ ہونے سے شہر بھر میں گندہ پانی جمع رہتا ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے سیت پور کی سڑکوں پر گٹروں کے گندے پانی کو ابلتے دیکھا ہے سیت پور شہر کی سڑکوں پر کھڑا گٹروں کا پانی اتنا پرانا ہے کہ اسکو بھی تاریخی اہمیت حاصل ہے ، تحصیل بھر میں اتنے بڑے مسائل کے باوجود اسکا سدباب نہ کرنا مقامی نمائندوں کی بے حسی پر سوالیہ نشان ہے ؟


0 تبصرے