سفرنامہ( اجمل لانگ ) کشمیر جانے کا شوق ہوا تو اپنی ٹورزم کمپنی کے پلیٹ فارم سے کشمیر ٹور پروگرام کی پبلسٹی شروع کر دی۔مسلسل 8 دن سوشل میڈیا پر دھوم دھام مچانے کے بعد کل 7 افراد جانے کیلیے تیار ہے۔جن میں سے ایک سوشل ورکر خاتون جو سابق تحصیل ممبر کوٹ ادو مظفرگڑھ اور کونسلر بھی رہ چکی ہیں مس رانی وحیدہ۔میرے ٹورزم کے استاد الیاس جٹ صاحب کے توسط سے فیصل آباد سے دو خاتون ٹیچر مس صوفیا،مس مریم،مس مریم کی دو چھوٹی 3 اور 4 سال کی ننھی منی پریاں ابرش نور اور انزش نور۔2 لاہور کے نوجوان جو مس صوفیا کے بھانجے تھے محمد زعیم اور صائم شامل ہیں۔میں 12 اگست کو شام 5 بجے مظفرگڑھ کے نواحی شہر خانگڑھ سے کاروان گاڑی پر سوار ہوکر ڈرائیور محمد زاہد کے ساتھ روانہ ہوا۔6 بجے ریلوے پھاٹک مظفرگڑھ سے مس وحیدہ رانی کو پک کیا۔پھاٹک پر ضلع مظفرگڑھ کے سینئر اور معروف ٹورسٹ آصف ریاض بٹ سے ملاقات ہوئی جنہیں ہمارے ٹور کے متعلق مس وحیدہ رانی سب تفصیل بتا چکی تھیں۔تو آصف ریاض بٹ نے مظفرگڑھ جیسے پسماندہ ضلع سے ٹورزم کمپنی سٹارٹ کرنے اور ٹور آپریٹ کرنے پر میری خوب حوصلہ افزائی کی۔6 بجے ہم مس وحیدہ رانی کو گاڑی میں بٹھا کے روانہ ہوے اور رات 10 بجے ہم فیصل آباد پہنچ گئے جہاں میرے ٹورزم کے استاد الیاس جٹ صاحب 2 خاتون ٹیچرز 2ننھے منے بچوں اور 2لاہوری نوجوانوں کے ہمراہ ہمارا انتظار کررہے تھے۔الیاس جٹ صاحب نے سب کو گاڑی میں بٹھایا اور کشمیر ٹور کے حوالے سے مجھے کچھ ضروری ہدایات دے کر روانہ کردیا۔ہم فیصل آباد سے تقریبا رات کے 11 بجے روانہ ہوگئے اور بزریعہ موٹروے سفر کرنے لگے ۔سفر کے شروع میں ہی تعارفی پروگرام شروع ہوا تو سب نے ایکدوسرے کو اپنا اپنا تعارف کرایا.ہم صبح 4 بجے اسلام آباد انٹر چینج سے اتر کر سری نگر ہائی وے پر سفر کرنے لگے۔ہم نے گاڑی کا اے سی بند کیا اور گاڑی کے شیشے کھول دیئے۔صبح کا وقت تھا ہرسو ہریالی پر شبنم پڑی ہوئی تھی اور ٹھنڈی ٹھنڈی بادصبا چل رہی تھی۔باہر سے آنے والی بھینی بھینی ٹھنڈی ٹھنڈی خوشبو سے دماغ معطر ہوتا چلا گیا ۔ہم نے مری کراس کیا تو کوہالہ کے نزدیک سڑک تعمیر ہو رہی تھی جسکی وجہ سے روڈ بلاک تھا تقریباً ہمارے دو گھنٹے ضائع ہو گئے ۔سفر جاری رہا ہم دن کے 10 بجے مظفر آباد پہنچے ۔مظفرآباد میں ناشتہ کیا جو کہ سب کو بہت پسند آیا اور ہم ناشتہ کے بعد روانہ ہو گئے.دن کے ایک بجے تو ساری رات سفر کرنے کے باعث تھکاوٹ ہو گئی تھی اور مجھ سے سوال پہ سوال ہو رہے تھے کہ اجمل بھائی باقی کتنا سفر ہے۔میں جواب دیتا گیا کہ بس دو سے تین گھنٹے میں کیرن پہنچ جائینگے اور کیرن سے آگے تو بس 37 کلومیٹر ہے۔۔ابھی کیرن پہنچنے میں دو گھنٹے باقی تھے تو تھکی ہاری خواتین نے پھر سوال پوچھنا شروع کردیے کہ اجمل بھائی باقی کتنا سفر ہے تو میں نے جواب دیا ایک گھنٹے میں پہنچ جائینگے انشااللہ۔۔گھنٹہ گزرا تو پھر سوال ہوا کہ اجمل بھائی کتنی دیر ہے میں نے کہا بس باقی ایک گھنٹہ ہے اسطرح کرتے کراتے ہم تقریبا 4 بجے کیرن جا پہنچے۔کیرن پہنچتے پہنچتے سب تھک ہار گیے تھے لیکن انکو تسلی تھی کہ اب تو بس صرف 37 کلومیٹر باقی ہے۔اب میں نے کتنا سفر باقی ہے کا جواب منٹوں گھنٹوں کی بجاے کلومیٹر میں دینا شروع کردیا کیونکہ اس سے انکو تسلی ہونی تھی کہ بس اب ہیں تو 30 کلومیٹر لیکن مجھے پتہ تھا کہ اب سڑک خراب ہے اور وقت کافی زیادہ لگنا ہے اگر میں نے انہیں بتادیا کہ تین گھنٹے کا سفر باقی ہے تو سب کی چیخیں نکل جانی ہیں۔سفر جاری رہا تقریبا 6 بجے پھر سوال ہوا کہ اجمل بھائی باقی کتنا سفر ہے تو میں نے انکی اضطرابی کیفیت کو محسوس کرتے ہوے جواب دیا کہ اب تو بس پہنچ ہی گئے اگلا سٹاپ انشااللہ شاردہ ہی ہو گا۔یوں سچ جھوٹ مکس کرتے تسلیاں دیتے ساڑھے سات ہوے تو میں نے اونچی آواز میں کہا کہ بس اب پہنچ ہی گئے بس اب شاردہ آنے ہی والا ہے۔میں اسوقت ڈرائیونگ کررہا تھا تو مجھے پیچھے سے دبی دبی آواز میں قہقہے محسوس ہوے میں سمجھ گیا کہ میرے جھوٹوں کا پردہ فاش ہو گیا ہے اور اب مزید تسلیاں نہیں چلینگی۔تھوڑا اور سفر کیا تو میں نے پھر کہا کہ بس اب شاردہ آگیا ہے سامنے شاردہ ہی نظر آرہا ہے تو پیچھے بیٹھی ساری سواریاں بے ساختہ قہقہے لگاکر بول پڑیں کہ اجمل بھائی بس کردو اب نہ کہنا کہ پہنچ گئے ہیں۔مجھے بھی خود پہ ہنسی آگئی میں بھی بے ساختہ ہنس پڑا اور چلتارہا۔ تقریبا آٹھ بجے سامنے آبادی نظر آئی تو میں نے کہا بس جی اب پہنچ گئے تو پھر پیچھے سے ایک ساتھ سب نے قہقہہ لگایا کہ بس کردو اجمل بھائی۔لیکن اب ہم شاردہ پہنچ چکے تھے۔شاردہ برج کراس کرکے نیلم سٹار ہوٹل پہ بریک لگائی ہوٹل میں 2 کمرے 2500 فی کمرے کے حساب سے بک کیے اور سامان کمروں میں شفٹ کردیا۔ہوٹل کے صحن کے ساتھ دریا بہہ رہا تھا کافی ٹھنڈ تھی اور ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی۔سفر کی بے پناہ تھکاوٹ کے باوجود دس منٹ بعد میں نے دیکھا تو ہماری پوری کی پوری ٹورسٹ فیملی دریا کنارے چہل پہل میں مصروف تھی۔ایسے لگ رہا تھا جیسے ان لوگوں نے سفر کیا ہی نہ ہو موقع غنیمت جان کر میں نے کہا کہ میں نے آپکو پہلے ہی کہا تھا کہ شاردہ پہنچتے ہی ساری تھکاوٹ دور ہو جاے گی تو ہماری ٹورسٹ فیملی نے جواب دیا کہ اجمل بھائی بس صرف آپ نے ایک ہی سچ بولا ہے اور وہ یہی ہے شاردہ دیکھ کر ہماری ساری تھکاوٹ دور ہو گئی ہے۔مس وحیدہ رانی نے کہا کہ دیکھو دریا میں رنگ برنگی کشتیوں اور موٹر بوٹس نے دریا کو اور بھی خوبصورت بنایا ہوا ہے۔تیز بہتا صاف شفاف پانی کا دریا اور اس میں چلتی موٹر بوٹس اور پھر دریا میں ہوٹل کی رنگ برنگی روشنیوں نے منظر کو مسحور کن بنادیا تھا۔تھوڑی دیر میں کھانا تیار ہو گیا ہم سب کھانے کی ٹیبل پر اکٹھے ہو گئے ۔کچھ نے سفر کے دوران میرے بولے گئے جھوٹوں کا تذکرہ کیا تو کچھ نے شاردہ کے خوبصورت مقام پر ٹھہرانے اور خوبصورت مناظر دکھانےپر خوشی کا اظہار کیا۔۔کھانا کھایا تو کھانے کی تعریف کیے بغیر کوئی بھی نہ رہ سکا۔کیونکہ سفر میں گھر جیسا کم مصالحہ دار اور لذیذ دیسی کھانا قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔کھانے کے بعد سب نے دریا کے کنارے بیٹھ کے چاے پینے کی فرمائش کی تو ہم نے دریا کے کنارے کرسیاں لگوائیں اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں چاے کی چسکیاں لیں۔خوب گھومنے پھرنے کے بعد ہم اپنے اپنے کمروں میں سو گئے.صبح دس بجے اٹھ کر ناشتہ کیا۔ناشتہ میں چھولے ،انڈہ آملیٹ اور چاے نے انرجی بحال کی تو شاردہ سے کیل کی جانب رخ کیا کیونکہ ہماری منزل اڑنگ کیل تھی اور گاڑی کیل میں کھڑی کرکے ہم نے اڑنگ کیل پہنچنا تھا۔جونہی شاردہ سے باہر نکلے تو چیک پوسٹ پر پاک آرمی کے جوانوں نے انٹری کیلیے روک لیا۔آرمی کے جوانوں کا رویہ اور خوش اخلاقی نہائت قابل تعریف تھی۔انٹری کرانے کے بعد ہم کیل کی طرف بڑھنے لگے تو نیچے دیکھا کہ ایک طرف سے سبز رنگ کے پانی اور دوسری طرف سے سفید دودھیا پانی کے دریا آپس میں مل رہے تھے۔دودریاوں کے دورنگے پانی کے ملاپ کا منظر ایسا تھا میری ٹورسٹ فیملی گاڑی کی بریک لگوا کر دس منٹ سٹاپ پر اصرار کرنے لگی۔میں نے واپسی رکنے کا عہد کیا اور آگے کی طرف چل پڑے۔تھوڑی دور گئے تو سڑک کنارے چشمہ کا پانی بہہ رہا تھا۔بس اب میری ٹورسٹ فیملی نے گاڑی رکوا ہی دی۔اور پہاڑ سے گرتے ہوے چشمہ کے ٹھنڈے ٹھار پانی کی ٹھنڈک قریب سے محسوس کرنے کیلیے پانی کے قریب چلے گئے۔سب نے اپنے اپنے فوٹو بناے مگر اوور ویٹ اور عمر رسیدہ ہونے کے سبب مس وحیدہ رانی گاڑی میں بیٹھ کر ہی منظر انجواے کرتی رہیں۔مجھے جلدی تھی کہ اڑنگ کیل تک پہنچتے پہنچتے دیر ہو جانی تھی اور اڑنگ کیل ٹور 4 دن کی بجاے اپنی ٹورسٹ فیملی کے فیملی پرابلمز کے باعث ہم نے 3 دن میں مکمل کرنا تھا۔اسلیے میرے بار بار کہنے کے بعد سب گاڑی میں بیٹھے اور چل پڑے۔سڑک کافی خراب تھی کہیں پہ پتھر تو کہیں پہ گڑھے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا تھا۔لیکن سڑک کے دونوں طرف درختوں سے بھرے سرسبز پہاڑ اور نیچے بہتی ندی کا منظر اتنا دلفریب تھا کہ سب کی توجہ سڑک کی خرابی سے ہٹ کر پہاڑوں کی خوبصورتی پر ٹکی ہوئی تھی۔تھوڑی دور گئے تو ایک اور چشمہ ظاہر ہوا جو پہلے والے چشمہ سے زیادہ خوبصورت تھا۔اصرار ہوا تو گاڑی روکنا پڑی۔20 منٹ تک فوٹوگرافی اور چشمہ کے پانی میں ننگے پاوں پیر ڈبوے گئے۔پانی کی ٹھنڈک پیروں سے دماغ تک اسطرح پہنچی کہ آج بھی وہ ٹھنڈک دماغ کو تروتازہ رکھے ہوے ہے۔گاڑی میں سوار ہوے تو میں نے سب کو سمجھایا کہ اس کیل روڈ پر ہر آنے والا منظر پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگا اگر جگہ جگہ سٹاپ کیے تو وقت پر اڑنگ کیل نہیں پہنچ پائیں گے۔دو گھنٹے سفر کے بعد تھکاوٹ محسوس ہوئی تو پھر وہی سوال کہ اجمل بھائی کتنی دیر ہے۔ایک دو بار تو میں نے کہا کہ اب بس پہنچ ہی گئے تھوڑی دیر بعد گاڑی سے دبے دبے قہقہے اور آواز آئی کہ اجمل بھائی کے جھوٹ پھر شروع ہوگئے۔ایک باجی تو بلاتکلف بول پڑیں کہ اجمل بھائی اب آپ پلیز نہ کہیے گا کہ پہنچ ہی گئے کیونکہ اب اعتبار ختم ہو گیا ہے۔راستے میں ایک جگہ تھوڑی دیر کیلیے رکے مگر مس وحیدہ رانی" کدی بلڈنگ وی ہلی "کے فارمولے پر قائم رہیں تقریبا 1 بجے ہم کیل جا پہنچے اب چوکہ ہم نے کیل میں گاڑی کھڑی کرکے چئیرلفٹ کے ذریعے ندی کراس کرکے 40 منٹ تک ہائیکنگ کرکے اڑنگ کیل پہنچنا تھا اسلیے مجھے مس وحیدہ رانی کی فکر لاحق تھی۔پارکنگ پر گاڑی کھڑی کی تو پارکنگ والے سے ہم نے اپنا مسلہ بیان کیا کہ مس وحیدہ رانی پیدل نہیں چل سکتیں اور ہم سب نے اڑنگ کیل دیکھنے جانا ہے۔پارکنگ والے بزرگ نے کہا کہ میرا گھر ساتھ ہی ہے آپ اماں جی کو میرے گھر بھیج دیں رہائش کھانا سب کچھ مل جاے گا اور آپ آرام سے اڑنگ کیل گھوم کے واپسی پہ انہیں ساتھ لیتے جانا۔بزرگ کی بات سن کر اماں جی نے حامی بھرلی اور پارکنگ والے بزرگ کے گھر چلی گئیں۔ہم سب چئیرلفٹ کی طرف چل پڑے چئیرلفٹ والی جگہ پہنچے تو لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ہمیں قطار میں کھڑا ہونا پڑا اور دو گھنٹے قطار میں انتظار کرنے کے بعد اور مس صوفیا کی چستی کے سبب ہماری قطار سے جان چھوٹی۔ہم نے ہائیکنگ سٹک فی سٹک 30 روپے کرایہ پر حاصل کیں اور چئیرلفٹ میں بیٹھ گئے۔چئیرلفٹ سٹارٹ ہوئی اور چلنے لگی۔جونہی ندی کے عین اوپر گئے تو تیز ٹھنڈی ہوا سے چہرے خشک ہو گئے۔چئیرلفٹ سے اتر کر اڑنگ کیل کی طرف جانے والے ٹریک پہ ہم نے ہائیکنگ شروع کردی۔ٹریک تھوڑا مشکل تھا لیکن لوگ ایکدوسرے کو موڈی فائی کرکے ہاتھ پکڑ کر ایک دوسرے سے تعاون کررہے تھے۔جب بھی کوئی تھکتا تو کہتا اجمل بھائی سے نہیں پوچھنا کہ سفر باقی کتنا ہے۔گھنے جنگل کے بیچ آخرکار 40 منٹ کی ہائیکنگ کے بعد ہم اڑنگ کیل جا پہنچے اور سب سے بہترین ہائیکر کا اعزاز دونوں ننھی پریوں ابرش نور اور انزش نور نے اپنے نام کرلیا۔اڑنگ کیل پہنچے مقامی لوگوں کے لکڑی سے بنے ہوے گھر،لکڑی کے ہوٹلز اور کیمپوں پہ نظر پڑی۔اور دوسری نظر ہر طرف سے پہاڑوں میں گھرے ہوے سبزے پر۔اڑنگ کیل کا رقبہ تقریباً ایک کلومیٹر مربع ہوگا۔پورا اڑنگ کیل سرسبز تھا اور بادلوں میں گھرے ہوے پہاڑوں کے بیچ تھا اور گراونڈ پر ایسا سبزہ جیسے کسی نے سبزے کا بستر سجا دیا ہو۔پہاڑوں سے اٹھتے ہوے بادل اور بادلوں کے بیچ سے نیلے صاف شفاف آسمان کے مناظر مسحور کردینے والے تھے۔ایک گھنٹہ ہم نے ا ڑنگ کیل کو جی بھر کے دیکھا اور واپس چل پڑے۔ہائیکنگ ٹریک پر چلتے ہوے ابھی دس منٹ ہی گزرے تھے کہ بارش برس پڑی۔کچا ٹریک تھا بارش کے باعث پھسلن ہوگئی۔سب پر تھوڑا تھوڑا خوف طاری ہو گیا مگر ہمارے ساتھ ننھی منی ابرش نور کے منہ سے لفظ سنے تو سب کو تھوڑا ہمت ہوئی۔ابرش نور نیچے کی جانب ہائیکنگ کررہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ کہہ رہی تھی کہ اگر طاقت ہو تو طاقت کا استعمال کرنا چاہیے ۔چھوٹی سی 4 سالہ بچی کے منہ سے ایسے الفاظ سنے تو اسکی تربیت کرنے والی والدہ کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔تھوڑی دیر بعد ابرش نور نیچے کی طرف ہائیکنگ کررہی تھی تو پھسلن کے باعث اچانگ گر گئی۔ہم نے ابرش کو سنبھالا اور کہا کہ بیٹا طاقت کا استعمال بعض اوقات بندے کو منہ کے بل بھی گرادیتا ہے۔ابھی ہم نے ابرش نور کو سنبھالا تو اسکی والدہ بھی گر پڑی۔کچھ لوگ نیچے سے اوپر کی طرف بھی ہائیکنگ کررہے تھے سب ایکدوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے مگر کڑکتی بجلی ،گرجتے بادلوں ،برستی بارش اور کچے ٹریک نے سانسیں خشک کردی تھیں۔چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ سفر جاری رکھا اور آپس میں کہتے رہے کہ اگر حکومت چئیرلفٹ سے لے کر اڑنگ کیل تک کچے ٹریک پر سیڑھیاں بنا دے اور دونوں جانب تاریں یا لوہے کے پائپ لگوا دے تو سفر انتہائی آسان ہو جاے گا اور خراب موسم میں بھی گرنے کا اسقدر خطرہ نہیں رہے گا اور حکومت ان سیڑھیوں پر بھی ٹکٹ لگا دے تو ٹورسٹ بخوشی ٹکٹ ادا کرینگے ۔
بالاآخر تقریباً 8 بجے ہم چئیرلفٹ پر پہنچے تو وہاں بھی لمبی لائن لگی تھی اور ہمیں قطار میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑا۔اوپر سے بارش اور نیچے قطار میں کھڑے ہم بے بسی کے عالم میں بار بار ایک ہی فقرہ دہراتے تھے کہ اگر اڑنگ کیل کا نظارہ کرنا ہو تو بندہ کسی تہوار پر اس جگہ کا رخ نہ کرے۔دو گھنٹے انتظار کے بعد ہماری باری آئی تو چئیرلفٹ میں بیٹھ گئے ۔چئیرلفٹ چلی تو ندی کے اوپر سے گزرتے ہوے سخت سردی اور تیز ہوا کا سامنا کرنا پڑا۔دومنٹ کا سفر تھا گزر گیا اور چئیرلفٹ نے ندی کے پار پہنچا دیا۔اتر کر کیل میں موجود پارکنگ کی طرف چل پڑے جہاں ہماری گاڑی کھڑی تھی۔اس دوران ہم نے فیصلہ کیا کہ رات کے گیارہ بج رہے ہیں اور بارش کے باعث سڑک پر بھی پھسلن ہے اسلیے رات کیل میں قیام کرکے صبح واپسی روانہ ہونگے۔پارکنگ پر پہنچے تو ایک لڑکا مس وحیدہ رانی کی طرف بھیجا جو پارکنگ کے مالک کے ذاتی گھر میں بیٹھی ہمارا انتظار کررہی تھیں۔لڑکے نے مس وحیدہ رانی کو اپنے شیڈول سے آگاہ کیا تو مس وحیدہ رانی نے کہا کہ گھر والے بڑے مہمان نواز لوگ ہیں انہوں نے سارا دن خدمت کی ہے کھانا کھلایا ہے اور اچھی رہائش بھی دے رکھی ہے میں یہاں پر پرسکون ہوں آپ لوگ مجھے صبح یہاں سے لیتے جانا۔مس وحیدہ رانی کی جانب سے مطمئن ہوے تو ہم نے اپنے لیے ہوٹلز میں کمرہ ڈھونڈنا شروع کردیا۔پورے کیل شہر میں بارش کی وجہ سے لائیٹ نہیں تھی۔ہم نے جس ہوٹل کا بھی رخ کیا اسی ہوٹل سے انکار کہیں بھی کمرہ نہ ملا۔مسلسل آدھا گھنٹہ کمرہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک ہوٹل پہ آواز لگائی کہ بھائی آپکے ہوٹل میں کمرہ مل جاے گا تو دوسری منزل پہ ٹھہرے نوجوان نے جواب دیا بھائی یہ پولیس چوکی ہے۔میں نے کہا معذرت بھائی جان اندھیرے کی وجہ سے پتہ نہیں چلا۔اسطرح ایک ہوٹل باقی بچا تھا اس ہوٹل پہ گئے تو اس ہوٹل والے نے بھی انکار کردیا۔مایوسی کے عالم میں واپسی مڑنے لگے تو ہوٹل منیجر نے کہا کہ آپکے ساتھ فیملی ہے اسلیے آپکو پیشکش کررہا ہوں ہمارے پاس ایک کمرہ ہے جو ہم دیتے کسی کو نہیں ہیں کیونکہ اسکا واش روم خراب ہے آپکی مجبوری کی وجہ سے آپکو دکھا دیتا ہوں۔ہم نے کہا کمرہ جیسا بھی ہے چلے گا ۔ہم نے شناختی کارڈ اور کمرے کا ایڈوانس کرایہ جمع کروایا اور کمرہ فائنل کرلیا۔پھر اپنی ٹورسٹ فیملی کو اسی ہوٹل پہ لے آے رات کا کھانا کھایا۔صبح اٹھ کر ناشتہ کیا اور گاڑی والے کو مس وحیدہ رانی کو لینے بھیج دیا ۔گاڑی والا مس وحیدہ رانی کو ہوٹل پہ لے کے آیا تو مس وحیدہ رانی نے کہا کہ پارکنگ والے کو پارکنگ کے پیسے دینا بھی بھول گئے ہیں اور انکے گھر رہائش رکھی کھانا کھایا انہیں بھی کچھ نہیں دیا۔ہم نے پارکنگ والے کا موبائل نمبر ڈھونڈا اور اسکی اپنے ہوٹل کے منیجر سے بات کروائی ہوٹل منیجر پارکنگ والے کا جاننے والا تھا ۔ہم نے کچھ پیسے اپنے ہوٹل منیجر کو دیے دونوں کی آپس میں بات کروائی تو پارکنگ والے نے کہا کہ میں اسی ہوٹل سے پیسے اٹھوا لونگا۔ہم سب ناشتے کے بعد تقریباً 11بجے کیل سے واپسی کی طرف روانہ ہو پڑے۔سڑک کچی اور کہیں کہیں سڑک پہ بڑے پتھر پڑے تھے جسکی وجہ سے گاڑی سے اترنا پڑتا تھا۔اور سڑک پر سے کہیں کہیں پہاڑوں سے گرتا چشموں کا پانی گزررہا تھا جو سڑک کراس کرکے نیچے دریا میں جاگرتا تھا۔ان جگہوں پر بھی گاڑی سے اترنا پڑتا۔ہم جتنے مرد تھے جلدی جلدی گاڑی سے اتر جاتے اور بعض اوقات گاڑی کو دھکا لگانا پڑتا تو ہم مرد حضرات گاڑی کو دھکا بھی لگا دیتے لیکن ہم نے خواتین کو بار بار گاڑی سے نیچے اترنے کی تکلیف سے سارا سفر بچاے رکھا۔اور وہ آرام سے گاڑی میں بیٹھی رہتیں اور ہم دھکے لگارہے ہوتے اور ادھر گاڑی کے اندر فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی آپا وحیدہ رانی جو اپنے علاقے کوٹ ادو میں ایک این جی او چلاتی ہیں جس میں وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلیے رات دن سرگرداں رہتی ہیں مردوں کے گلے کرتے نہ تھکتیں کہ پاکستانی مرد خواتین پر ظلم ڈھاتے ہیں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق میسر نہیں ہیں۔گاڑی کو دھکا لگاتے وقت ذہن میں خیال آتا کہ اگر خواتین کو مردوں کے برابر حقوق مہیا ہوتے تو یہ بھی گاڑی سے اتر کر ہمارے ساتھ دھکے لگا رہی ہوتیں ۔تقریبا تین گھنٹوں میں ہم شاردہ پہنچ گئے۔اور ہم نے گاڑی روک کر اس پوائنٹ کا رخ کیا جہاں دو مختلف رنگوں کے دریاوں کا آپس میں ملاپ ہورہاتھا۔اردگرد سرسبز پہاڑ اور نیچے سفید اور سبز پانی کا ملاپ اور ٹھنڈی ہوا سے روح کو تازگی ملی ۔جوتے اتار کر مس صوفیا اور مس مریم پانی کے تھوڑا اندر چلی گئیں بچوں کو بھی ساتھ لے لیا ایک گھنٹہ تک سیلفیاں لیتی رہیں ۔مجھے لمبے سفر اور وقت پر گھر نہ پہنچنے کی فکر تھی اور میں بار بار کہہ رہا تھا کہ چلو اب بس چلیں آگے شاردہ برج پر بوٹنگ بھی کرنی ہے اور شام ہونے سے پہلے کیرن لائن آف کنٹرول بھی دیکھنی ہے مگر مست نظاروں میں دونوں خواتین بچے اور دونوں لاہوری بابو اتنے مگن تھے کہ ایک ہی فریم میں متعدد فوٹو بنا رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ ایک اینگل میں ایک فوٹو تو بن گیا اب دوسرے کی کیا ضرورت ہے۔مجھے شاردہ برج کی طرف جاتے دیکھا تو وہ بھی اس جگہ کو چھوڑ کر پیچھے چل پڑیں۔ہم شاردہ برج پر پہنچے جہاں آپا وحیدہ رانی گاڑی کی فرنٹ پر بیٹھے ہمارا انتظار کررہی تھیں۔میں نے ڈرائیور اور آپا وحیدہ رانی کو کہا کہ گاڑی سے نیچے آجائیں اور برج پر فوٹو شوٹو بنالیں۔آپا نے پیدل چلنے کی زحمت سے بچنے کیلیے کہا کہ بس گاڑی سے برج کو دیکھ تو لیا ہے اب نیچے اترنے کی کیا ضرورت ہے تو میں نے کہا کہ بندہ اتنا سفرکرکے شاردہ آے اور برج پر پیدل چل کر دریا کا نظارہ نہ کرے تو شاردہ آنے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ آپا مان گئیں میں نے ڈرائیور اور آپا کو ساتھ لیا اور برج پر انکی فوٹوز بنائیں۔برج کے سنٹر میں ایک طرف پاکستان اور دوسری طرف آزاد کشمیر کا جھنڈا لہرارہا تھا ہم نے دونوں جھنڈوں کے بیچ کھڑے ہوکر ایکدوسرے کے فوٹو بناے۔
نیچے نظر پڑی تو مس صوفیا،مس مریم،انزش نور،ابرش نور ،صائم اور زعیم لائف جیکٹیں پہن کر کشتی میں سوار ہورہے تھے۔کشتی چل پڑی تو ہم نے برج کے اوپر سے انکی ویڈیو بنانی شروع کردی۔بوٹنگ کرتے ہوے وہ سب بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔بوٹنگ کرکے واپس آے تو ہم گاڑی میں بیٹھ کے کیرن کی طرف چل پڑے اور مغرب کے نزدیک ہم کیرن لائن آف کنٹرول پہ جا پہنچے ۔گاڑی سے اترے تو ایک طرف آزاد جموں کشمیر اور دوسری طرف انڈین آرمی کے زیرتسلط مقبوضہ جموں کشمیر تھا۔سامنے ندی کے پار پہاڑ کی چوٹی پر انڈین آرمی کی چیک پوسٹیں نظر آرہی تھیں اور نیچے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے گھر۔یہ منظر دیکھ کر دل غمزدہ تھا اور دل سے دعا نکل رہی تھی کہ اے اللہ بہت جلد کشمیری مسلمانوں کو آزادی نصیب فرما۔آدھا گھنٹہ لائن آف کنٹرول وزٹ کرنے کے بعد ہم روانہ ہو پڑے۔اندھیرا ہو گیا اور ہم نے سفر جاری رکھا۔رات کے گیارہ بجے ہم مظفرآباد پہنچے تو مظفرآباد پل کے قریب ہوٹل پر رک گئے اور کھانا کھایا۔کھانا کھانے کے دوران زعیم اور صائم کی مری دیکھنے کی خواہش جاگ اٹھی حالانکہ مری ہمارے ٹور شیڈول میں شامل نہیں تھا۔پاکستان میں لیڈیز فرسٹ کا رواج ہے اور مردوں کی بجاے خواتین کی بات زیادہ سنی جاتی ہے اسلیے انہوں نے مس مریم کو بھی اپنا ہم خیال بناکے آگے کردیا حالانکہ چئیرلفٹ پر چھوٹا موٹا جھگڑا کرکے اپنی باری سے پہلے ٹکٹ حاصل کرنے میں مس صوفیا اہم کرادر ادا کرچکی تھیں مگر اسکے باوجود مس صوفیا کی خدمات کو نظرانداز کرکے مس مریم کو ٹاسک سونپا گیا۔مس مریم نے مجھے قائل کرلیا اور ہم مری کی طرف روانہ ہو پڑے رات کے دو بجے مری پہنچے مال روڈ وزٹ کیا،شاپنگ کی ہلکا پھلکا جوس وغیرہ پیا۔ایک گھنٹہ مری مال روڈ پہ گزرگیا ۔میں ،ڈرائیور اور آپا وحیدہ رانی گاڑی کے اندر بیٹھ کر باقی سب کا انتظار کرنے لگے۔جب وہ سب واپس آے تو ہمارے لیے مال روڈ کی آئسکریم لے آے نہ چاہتے ہوے بھی مروت میں آئسکریم کھانا پڑی اور بچوں نے بھی آئسکریم کھالی۔روانہ ہوے اور ابھی مری کی پہاڑیوں میں ہی تھے کہ آئسکریم نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا۔کسی کا گلہ خراب ہونے لگا تو کسی کو الجھن ہو گئی اور بچوں میں سے ایک بچی کو الٹیاں شروع ہو گئیں۔گاڑی روکی تو نیچے اتر کر چہل پہل کرنے لگے ۔نور حضور کا وقت تھا ہلکی ہلکی ٹھنڈ اور جنگلات سے اٹھنے والی شبنم اور مٹی کے مکسچر کی خوشبو نے دماغ تروتازہ کردیے۔تھوڑی دیر بعد گاڑی میں بیٹھ کے روانہ ہوے تو سب کو نیند آگئی۔صبح نو بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو سب نیند میں تھے۔آہستہ آہستہ سب کی آنکھ کھل گئی مگر وجود نیند کی کمی اور سفری تھکاوٹ سے نڈھال ہو چکے تھے۔سفر فیصل آباد کی طرف جاری رکھا لیکن اب کی بار تو فیصل آباد دور ہوتا جارہا تھا مسلسل سفر سے اکتا گئے تھے اور جلد فیصل آباد آنے کی دعا کررہے تھے مگر فیصل آباد مزید دور ہوتا جا رہا تھا۔ہم بالاآخر 1 بجے فیصل آباد پہنچ گئے ۔مس صوفیا،زعیم اور صائم کو ڈائیوو ٹرمینل پہ اتارا اور ایک دوسرے کو الوداع کیا۔الوداع کرتے وقت تھوڑا غم محسوس ہوا ایسے لگ رہا تھا جیسے ہماری آپس میں سالوں کی رفاقت ہو اور اب بچھڑنا پڑرہاہو۔انہیں ڈائیوو ٹرمینل پہ چھوڑ کے ہم مس مریم ،انزش نور اور ابرش نور کو انکے گھر چھوڑنے چلے گئے۔20 منٹ میں انکے گھر پہنچے تو مس مریم، انزش نور، ابرش نور اور سامان لے کر ہمیں الوداع کرکے اپنے گھر داخل ہوگئیں اور ہم ملتان کی طرف چل پڑے۔راستے میں کھانا کھایا اور جب ہم خانیوال کے نزدیک پہنچے تو ایک نئے نمبر سے مجھے کال آگئی میں نے کال اٹینڈ کرکے کون کہا تو جواب ملا کہ میں مریم ہوں ۔میرا ایک شاپر گاڑی میں رہ گیا ہے اور اس شاپر میں میرے جوتوں کے تین جوڑے ہیں۔جو اڑنگ کیل ہائیکنگ کے دوران بارش میں گیلے ہو گئے تھے اور کیچڑ سے بھر گئے تھے اسلیے میں نے شاپر میں ڈال کر گاڑی میں رکھ دیے تھے۔میں نے مریم کی بات سنتے ہی گاڑی میں نظر دوڑائی تو میری نظر شاپر میں بند جوتوں پہ جاپڑی۔
میں نے مریم کو تسلی دی کہ آپکے جوتے ہمارے پاس امانت ہیں۔میں گھر جا کر ایک دو دن کے اندر انہیں کوریئر یا ڈاک کے ذریعے آپکو واپس بھجوادونگا۔مریم نے کہا کام کے جوتے ہیں بھجوا لازمی دینا۔ہم 6 بجے مظفرگڑھ پہنچ گئے۔آپا وحیدہ رانی کو کوٹ ادو کی ہائی ایس میں بٹھاکر ہم خانگڑھ کی طرف روانہ ہوے اور 7 بجے میرے گھر موضع لانگ خانگڑھ پہنچ گئے۔میں نے اپنا بیگ اور مس مریم کے جوتے اٹھاے،ڈرائیور کو خیرباد کہا اور گھر داخل ہوا اور بیگم سے کہا کہ یہ جوتے سنبھال کے رکھیں انہیں ایک دو دن میں واپس وطن بھیجنا ہے۔جوتے بیڈ کے نیچے رکھ دیئے گئے اور پھر میں بھی اپنے کام کاج میں مصروف ہوگیا۔دس دن بعد مس مریم کی کال آئی۔اس نے کہا کہ کشمیر کی مٹی سے بارش کے پانی سے بھیگے گیلے جوتے ایک بار چیک کرلیں کہیں جوتوں میں سے پودے نہ نکل آئیں۔انکی بات سن کر مجھے شرمندگی ہوئی کہ دس دن گزر گئے اور ابھی تک میں نے جوتے واپس نہیں بھیجے۔میں نے کہا اچھا اب دوبارہ ایڈریس سینڈ کریں میں ایک دو دن کے اندر اندر بھجوا دونگا۔انہوں نے ایڈریس سینڈ کردیا لیکن میں پھر مصروفیات کے باعث جوتوں کو بھول گیا۔ایک مہینہ بعد انکی کال آئی تو انکے کچھ بولنے سے پہلے میں نے کہہ دیا کہ آپکے جوتے ہم کھا تھوڑی جائینگے آپ ایڈریس پھرسینڈ کردیں میں ایک دو دن میں بھیج دونگا۔مس مریم نے ایڈریس سینڈ کردیا۔لیکن حسب عادت رات گئی بات گئی۔ڈیڑھ ماہ گزر گئے پھر کال آگئی اور اب کی بار مس مریم نے کہا کہ جوتے بالکل نہ بھیجیں مگر ایک بار چیک کرلیں کہ گیلی مٹی میں بھیگے ہوے جوتے اب جوتے بھی ہیں یا مٹی کے ساتھ مٹی ہو گئے ہیں۔میرے پاس جواب کوئی نہیں تھا تو میں نے اس بار جھوٹ بول دیا اور کہا کہ آپکے جوتوں سے پودے نکل آے تھے۔اب پودے تیار ہو چکے ہیں۔پودے کاٹ کے ایک دو دن میں آپکو بھیج دونگا۔۔
مگر جوتے بھیجے میں نے آج تک نہیں ہیں بس ایک دو دن میں بھیج دونگا۔۔۔۔۔


0 تبصرے