علی پور(رضو تو لکھے گا) علی پور سیاسی جوڑتوڑ عروج پرسیاسی گرگے نئے گھروں کی تلاش میں متوقع بلدیاتی انتخابات میں نئے چہرے سامنے آنے لگے ڈیرےآبادشادی غمی پر سیاسی لوگوں کاجم غفیر عاشق گوپانگ کاپلڑابھاری۔۔۔تفصیل کے مطابق متوقع بلدیاتی اور وقت سے پہلے انتخابات کی باتوں سے علی پورمیں بھی سیاسی گہمی عروج پر پہنچ چکی ہے سیاسی ڈیرے آباد ہوناشروع ہوگئے ہیں سالہا سال سے غائب سیاسی چہرے شادی غمی میں بن بلائے آکر اپنی موجودگی کااحساس دلارہے ہیں اور ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہیں اس وقت گوپانگ گروپ کے سربراہ عاشق خان گوپانگ کاپلڑا تحصیل بھرمیں بھاری ہے انکے گروپ سے ایم این اے سردار عامر طلال گوپانگ سیدسبطین رضا سید مخدوم رضا حسین بخاری ایم پی ایز ہیں اس گروپ میں جتوئی وخضرحیات گوپانگ گروپ کی اہم ترین سیاسی شخصیات ملک سلیم مٹھو سابق ممبرضلع کونسل شیخ رمضان قریشی صدرانجمن تاجران ملک مجیب احمدجکھڑ سابق صدر بار حامد رضا گھلو حسن رضا گھلو چودہری غلام حسین ارشد مرحوم کے سیاسی جان نشین چودہری اعجاز سرور اپوزیشن لیڈر میونسپل کمیٹی جام رجب ڈمرسمیت تحصیل کی متعدد اہیم شخصیات شامل ہوچکی ہیں اور مزید شخصیات کی شمولیت جاری ہے بلدیاتی انتخابات کیلئے چند ماہ قبل میونسپل کمیٹی علی پور کے علاوہ گھلواں سیت پور اور خیرپور سادات کو ٹاوٴن کمیٹی کا درجہ دیا گیا تھا تاہم بعدازاں خیرپور سادات اور سیت پور کا نوٹی فکیشن منسوخ کر دیا گیا گھلواں کا برقرار رکھا گیا علی پور میونسپل کمیٹی چئرمین کیلئے سید غضنفر مرتضیٰ چئرمین میونسپل کمیٹی کے کرونا کے باعث اچانک انتقال کرنے کی وجہ سے اب اس سیٹ پر گوپانگ گروپ کی طرف سے چودہری اعجاز سرور کو امیدوار لایا جاسکتا ہے جبکہ جتوئی گروپ سے سرداریونس جتوئی اور خضرخان گوپانگ گروپ سے کامران پرویز گوپانگ یا کوئی غیر متوقع امیدوار سامنے اسکتاہے جبکہ گھلواں ٹاوٴن کمیٹی کیلئے ملک خاور گھلو گوپانگ گروپ کے متفقہ امیدوار ہوسکتے تاہم حال ہی میں گوپانگ گروپ میں شامل ہونے والے حسن رضا یاحامدرضا گھلو بھی امیدوار ہوسکتے ہیں جبکہ تحصیل ناظم علی پور کیلئے گوپانگ کے سربراہ عاشق گوپانگ سابق تحصیل ناظم خضرحیات گوپانگ سیدقائم علی شاہ شمسی سردار رسول بخش جتوئی امیدوار ہوسکتے ہیں جبکہ ڈسڑکٹ چئرمین کیلئے سردارعاشق خان گوپانگ موجودہ چئرمین سردارعمرخان گوپانگ امیدوار ہوسکتے ہیں جبکہ جتوئی گروپ سے سردار عبدالقیوم خان جتوئی بھی میدان میں آسکتے ہیں دوسری طرف سردارخضرحیات اور سردارعاشق خان گوپانگ کے درمیان صلح کرانے کیلئے کچھ گوپانگ برادری کے بزرگ ودیگرز لوگ کافی عرصے سے کوششوں میں مصروف ہیں اگر دونوں بھائیوں میں صلح ہوئ تو سردار خضرحیات خان گوپانگ ڈسڑکٹ چئرمین کے متفقہ امیدوار ہوسکتے ہیں تاہم صلح کےامکانات نہ ہونے کے برابرہیں خضرحیات خان گوپانگ ایک بار پھرسیاسی اڑان بھرنے کیلئے تیار ہیں ق لیگ میں شمولیت کے بعد اب وہ ن لیگ میں اڑان بھرنے کیلئے تیار ہیں ملک سلطان ہنجرا کے زریعے معاملات فائنل ہوئے ہیں حمزہ شہباز کے حالیہ جنوبی پنجاب کےدورہ کے وہ باقاعدہ ن لیگ میں شمولیت کرینگے دوسری طرف جتوئی گروپ بھی سیاسی دوڑ میں کافی پیچھے نظرآتاہے قیوم خان جتوئی اور حاجی رسول بخش خان جتوئی میں کافی عرصے سے اختلافات ہیں جسکی وجہ سے جتوئی گروپ علیپور میں کافی کمزورہے اور ابھی تک فیصلہ نہیں کرپارہے کہ انہوں نے کس سیاسی پارٹی سے الیکشن لڑنا ہے قیوم جتوئ کے براردرنسبتی معظم جتوئی تحریک انصاف میں ہیں رسول بخش خان جتوئ نے پیپلز پارٹی چھوڑ دی تھی قیوم جتوئی بھی پیپلز پارٹی چھوڑ کر ن لیگ میں شمولیت اختیار کرنے کی پلاننگ کررہے تھے ہواؤں کارخ تبدیل ہوتے دیکھتے ہوئے اب قیوم جتوئی کے بیٹے داوٴد خان نے جنوبی پنجاب کے دورہ بلاول بھٹو کے دوران ان سے ملتان میں ملاقات کی اور پیپلز پارٹی سے الیکشن لڑنے اور ہمیشہ انکے ساتھ رہنے کی یقین دہانی کرائی لیکن حلقہ میں ابھی تک جتوئی گروپ نے اپنی پوزیشن واضح نہیں کی ہے کچھ لوگوں کاکہنا ہے وہ اہم ترین سیاسی شخصیت راوصدردین کے زریعے راناثنااللہ سے رابطہ میں ہیں اور ن لیگ میں شمولیت کرناچاہتے ہیں تاہم آئندہ چندروز پوزیشن کلیئر ہوگی دوسری طرف علی پور مزہبی جماعتوں نے خاموشی اختیار کی ہوئ ہے تحریک لبیک کے رہنما شفیع خان بھی گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے ہیں صرف اپنے کاروبار تک محدود ہیں البتہ نواب آصف خان کافی سرگرم ہیں گوپانگ گروپ سے قربتیں بڑھارہے ہیں اورتاجران میں اپنااثررسوخ بڑھارہے ہیں لب لباب یہ ہے کہ آئندہ جنرل یابلدیاتی انتخاب میں گوپانگ گروپ کو کافی اہمیت حاصل ہوگی اور یہ واحد تحصیل ہے جہاں اتنی مہنگائی بےروزگاری کے باوجود برسراقتدار گروپ کے رہنماؤں کو کامیابی حاصل ہونے کے قوی امکانات ہیں اور کافی نئے چہرے سامنے آئینگے کئ سیٹوں پر کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے کچھ سیاسی گرگے گوپانگ گروپ کوشکست سےدوچارکرنے کیلئے جتوئی وخضرخان گروپ کو اکٹھا کرنے کیلئے تگ ودو میں لگے ہیں لیکن اس چال میں کامیابی کے امکانات نہیں ہیں آنے والے وقت میں کئی اتحاد بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہونگے کئ سیاسی سربراہ نئے سیاسی گھروں کی تلاش میں ہیں


0 تبصرے