-->

فرعون دیکھنے کی خواہش پوری ہوئی


تحریر(عارف حسین ملک) جب میں ایلیمنٹری سکول میں پڑھتا تھا تو میرا دل کرتا تھا کہ کاش میرے پاس بہت سارے پیسے ہوتے تو میں مصر جا کر "فرعون کی حنوط شدہ لاش" ضرور دیکھتا۔ مگر مجھے پتہ نہیں تھا کہ میری یہ خواہش اپنے شہر علی پور میں ہی پوری ہو جائے گی اور فرعون کی لاش کے بجائے جیتے جاگتے درجنوں فرعون ڈاکٹرز کی صورت میں روزانہ دیکھنے کو ملیں گے۔ 
مصر کے فرعون کو شاید اپنی رعایا پر ترس آ جاتا ہو مگر علی پور کے اکثر فرعون ڈاکٹرز کو اہلیانِ علی پور پر کبھی ترس نہیں آتا۔ فرعون ڈاکٹرز خود بھی لوٹتے ہیں اور انہوں نے اپنا سارا ٹبر بھی اپنی پرائیویٹ کلینک میں ایڈجسٹ کیا ہوا ہوتا ہے۔ چیک اپ فیس اتنی زیادہ کہ جیسے غریب مریضوں کے گھر درختوں پر پتوں کی جگہ پیسے لگتے ہوں۔ پرچی پر دوائیاں اتنی لکھتے ہیں کہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے اک ایکسٹرا شیٹ ساتھ مزید نتھی کرنی پڑے گی اور انکی بال پوائنٹ کی ڈبی بھی ہر دو تین دن بعد ختم ہو جاتی ہو گی۔

آدھا درجن ٹیسٹس بھی لازمی لکھتے ہیں, لیبارٹری پر انکا بھگوڑا بھائی موجود ہوتا ہے جو اندھے کانے نمبروں میں کورس پاس شدہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سے چیک اپ کے بعد اسکا چاچا ماما کارندہ مریض کے بازو سے پکڑ کر بھگوڑے کی لیبارٹری پر لے آتا ہے تاکہ مریض کسی اصلی لیبارٹری پر نہ چلا جائے۔ فرعون ڈاکٹر اور اسکا ٹبر جو کہ ہزار سال زندہ رہنے کی تیاریوں کے سلسلے میں کوٹھیاں, کاریں اور درجنوں پلاٹ ہر سال خریدنا چاہتے ہیں تو خود لوٹ لوٹ کر پھر کسی مزید ٹیسٹ کے لیے کسی کمیشن ایجنٹ والی لیبارٹری پر ریفر کر دیتے ہیں۔
میڈیکل سٹور بھی پرائیویٹ کلینک کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔ فرعون ڈاکٹر بھی مریض کو مزید تاکید کرتا ہے کہ دوائی خریدنے کے بعد مجھے دوائی دکھا کے جائیے گا, تاکہ مریض کسی باہر والے میڈیکل سٹور سے دوائی لینے کی بجائے ھسپتال میں موجود ڈاکٹر کے خاندان کے کسی لگڑ بگڑ سے ہی دوائی خریدے۔ 
اس دوران مریض اور اسکے لواحقین سمیت سب کی جیبیں خالی ہو جاتی ہیں, پھر بھی کوئی نہ کوئی دوائی ادھوری ہی رہ جاتی ہے۔ اس دوران وہ تہیہ کر ہی لیتے ہیں کہ اس بار بکری بیچ کر علاج کرانے آئے مگر علاج پورا نہ ہو سکا۔ اب اگلی بار گائے یا بھینس ہی بیچ کر آئیں گے۔
ان بھولے مریضوں کو کیا پتہ کہ جن فرعونوں سے انکا واسطہ پڑا ہے تو یہ نظروں سے ہی مریض کی جیب ٹٹول لیتے ہیں۔ مریض اگر بکری بیچ کے آیا ہے تو بکری کے حساب سے, اور اگر مریض بھینس بیچ کے آیا ہے تو یہ دوائیاں اور ٹیسٹس بھی بھینس کی قیمت کے حساب سے لکھیں گے۔ اگلی بار دوائی پھر ادھوری رہ جانی ہے
Central Asia Consult Group Sub Office Alipur

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے