تحریر(عارف حسین ملک) انسپکٹر جنرل پولیس (پنجاب) کی طرف سے محکمہ پولیس کے عوام کے ساتھ رویوں میں بہتری لانے کے لیے کچھ بہترین اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سٹیزن سینٹرک کانفرنس منعقد کی گئی, پولیس ملازمین کو یونیفارم میں سیلفیاں بنانے اور انکو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے اور دیگر لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بنانے سے منع کر دیا گیا۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ پولیس نظام میں بہتری لانے کے لیے پولیس کے اعلٰی افسران کوشش کر رہے ہیں۔ انشاءاللہ ان اقدامات کے ضرور کچھ مثبت اثرات بھی سامنے آئیں گے۔ محکمہ پولیس کا عوام میں عزت و وقار بڑھانے کے لیے میرے پاس بھی چند تجاویز ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ افسران اگر ان تجاویز پر غور کریں تو یقیناً اس کے بہترین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
تجاویز کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے
1- جنوبی پنجاب کے چھوٹے شہروں اور گاؤں میں رہنے والے عام طور پر کانسٹیبلز و محرر اور انکے خاندان کے دیگر لوگ اپنی پرائیویٹ بلا نمبری موٹر سائیکلوں پر نمبر پلیٹ کی جگہ محکمہ پولیس کا لوگو استعمال کرتے ہیں۔ اگر کسی کے نمبر پلیٹ ہیں بھی تو ان میں سے اکثر کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس کے بجائے محکمہ پولیس کے لوگو والی نمبر پلیٹ بنوا کے لگواتے ہیں تاکہ ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے یا کاغذات نہ ہونے کی صورت میں ٹریفک پولیس سے ناجائز طور پر رعایت حاصل کی جا سکے اور عوام میں میں بھی یہ دبدبہ بنایا جا سکے کہ یہ کسی عام بندے کی نہیں بلکہ خاص پولیس والے کی موٹرسائیکل ہے۔
بلا نمبری محکمہ پولیس کے لوگو والی موٹرسائیکل پر کوئی کانسٹیبل یا اسکے خاندان کا کوئی بندہ صبح کو گھر سے نکلتا ہے تو شام تک اس بلا نمبری پولیس لوگو والی موٹرسائیکل کو سینکڑوں لوگ دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ یعنی کہ روزانہ سینکڑوں لوگوں کو اس بلا نمبری محکمہ پولیس کے لوگو والی موٹرسائیکل کے ذریعے یہ پیغام پہنچ چکا ہوتا ہے کہ قانون صرف عام بندے کے لیے ہے۔
پولیس والے قانون سے بالاتر ہیں۔
پولیس والوں اور انکے خاندان والوں کو بلا نمبری موٹرسائیکلوں کی کھلی اجازت ہے وغيرہ وغيرہ ۔
ویسے تو تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے مگر کسی چھوٹے شہر میں ایسی موٹرسائیکلوں کی تعداد صرف بیس پچیس بھی ہو تو اس طرح روزانہ اس علاقے کے ہزاروں لوگوں کو پولیس کے بارے میں منفی پیغام جاتا ہے۔
کانسٹیبلز کی یہ غیرذمہ دارانہ حرکت محکمہ پولیس کے لیے خوامخواہ بڑی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ محکمہ پولیس کی طرف سے اگر ایسی موٹرسائیکلوں پر پولیس لوگو استعمال کرنے پر پابندی لگا دی جائے تو عوامی سطح پر یقیناً پولیس کے وقار میں اضافہ ہو گا۔
2۔ گاؤں کی سطح پر لوگوں کے آپس میں چھوٹے چھوٹے اختلاف پر وہاں کے مقامی کانسٹیبلز وغیرہ کسی ایک خاندان یا گروپ کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور اپنا خرچہ پانی بنانے کی خاطر لوگوں کے چھوٹے چھوٹے اختلاف کو بڑھاوا دیتے ہیں اور انکو تھانے کا راستہ دکھلاتے ہیں ۔ لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے تھانیداروں سے یاری کے قصے گھڑتے ہیں۔ اس طرح اس گاؤں اور اس کے آس پاس کے گاؤں کے لوگوں کے دل میں یہ بات گھر کر جاتی ہے کہ تھانے میں جانبداری چلتی ہے اور یہ کانسٹیبلز وغیرہ تھانیداروں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ آس پاس کے حالات میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں اس طرح گاؤں میں بات بڑی دور تک پھیلتی ہے۔ اک کانسٹیبل کی غلطی کی وجہ سے ہزاروں لوگ پولیس کے بارے میں غلط رائے قائم کر لیتے ہیں۔
محکمہ پولیس کی طرف سے ایسے کانسٹیبلز پر سختی کر دی جائے تو لوگوں کے چھوٹے چھوٹے اختلاف گاؤں کی سطح پر ہی ختم ہو جائیں گے۔ اس طرح نہ صرف محکمہ پولیس کی نیک نامی ہو گی بلکہ تھانے اور کچہریوں سے زیادہ مقدمات کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔
یہ تجویز ویسے تو شاید عام سی لگے مگر اس پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو اسکے فوائد ہمارے اندازوں سے بھی بڑھ کر ہو سکتے ہیں۔
3۔ بچوں کو پولیس والا یا فوجی بننا بہت پسند ہوتا ہے۔ فوج سے تو عام لوگوں کا عموماً واسطہ نہیں پڑتا اور فوج ہوتی بھی زیادہ تر بڑے شہروں یا باڈروں پر ہے۔ جبکہ پولیس یونیفارم میں ملبوس لوگوں کو چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے بچے اکثر دیکھتے رہتے ہیں اور انکے خاندان کے لوگوں یا دیگر رشتہ داروں و ہمسایوں وغیرہ کا کسی نہ کسی وجہ سے پولیس سے واسطہ کبھی پڑتا ہی ہے۔ اس لیے پولیس کا ذکر کسی نہ کسی وجہ سے اکثر گھروں میں ہوتا ہی رہتا ہے۔ بچے بھی اپنے بڑوں سے پولیس کے بارے میں سنتے ہی رہتے ہیں۔ اپنے بڑوں کی باتوں سے ہی وہ پولیس کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں اور پولیس کے بارے میں اب تک عام لوگوں کی رائے کچھ زیادہ ٹھیک نہیں ہے۔
بچوں کے دل سے پولیس کا خوف ختم کرنے اور انکے تحفظ کا احساس جگانے کے لیے یہ تجویز یقیناً کارآمد ہو گی کہ ٹرپ کی صورت میں مختلف سکولز کے بچے تھانہ , ڈی۔ایس۔پی آفس یا ڈی۔پی۔او آفس وزٹ کریں۔ تھانہ میں بچوں کو حوالات, محرر آفس, فرنٹ ڈیسک آفس, ایس۔ایچ۔او آفس دکھایا جائے اور انکے کام کے بارے میں بتایا جائے۔ بچے اور تھانیدار ایکدوسرے کے ساتھ سیلفیاں بنائیں۔ تھانے کے عملہ کی طرف سے بچوں کو پھول اور ٹافیاں گفٹ کی جائیں۔ اس دوران محکمہ پولیس کی طرف سے بچوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی بچوں کو بتایا جانا چاہیے۔ اس طرح کے وزٹ سے بچوں کے دل میں پولیس کی محبت و عزت نقش ہو جائے گی۔ اس طرح کا سکول ٹرپ چاہے سال میں ایک بار ہو یا پانچ دس بار۔ تھانہ کا عملہ اپنی مصروفیت کے حساب سے جس طرح مناسب سمجھے شیڈول بنا لیا کرے۔
یہ تھیں چند تجاویز کہ جن پر عملدرآمد بڑی آسانی سے ممکن ہے اور بظاہر عام سی ان تجاویز کے ذریعے سوسائٹی میں دوستانہ پولیس کا تشخص اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی بجٹ کی بھی ضرورت نہیں ہے


0 تبصرے