-->

تحصیل علی پور میں بنیادی صحت کے مسائل


تحریر(عارف حسین ملک) تین اطراف سے دریاؤں میں گھری ہوئی ضلع مظفرگڑھ کی پسماندہ تحصیل علی پور میں بنیادی صحت کے مسائل دریاؤں سے بڑھ کر ہیں۔ ویسے تو یہاں پر صحت کے مسائل پر ہزار صفحات پر مشتمل ایک جامع کتاب بڑی آسانی سے لکھی جا سکتی ہے مگر اس مضمون میں مختصراً بنیادی صحت کی سہولیات اور مسائل پر چند حقائق بیان کرنا چاہتا ہوں۔
تحصیل علی پور کی چھ لاکھ آبادی کے لیے حکومت کی طرف سے ایک تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال, 2 رورل ہیلتھ سنٹرز, 13 بنیادی مراکز صحت اور 4 رورل ڈسپنسریاں مہیا کی گئی ہے۔ چھ لاکھ کی آبادی کے لیے یہ سہولیات انتہائی ناکافی ہیں۔ 13 بنیادی مراکز صحت میں 6 مراکز صحت ایسے ہیں کہ جو یونین کونسل میں آبادی کے مرکزی علاقوں کی بجائے سیاسی شخصیات کے ڈیروں کے پاس بنا دیے گئے۔ آبادی سے دور ہونے کے سبب زیادہ تر لوگ ان سے مستفید نہیں ہو پاتے اور اتائیوں کے پاس جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کئی دہائیاں قبل جب یہ بنیادی مراکز صحت قائم کیے گئے تھے تو اس وقت تحصیل علی پور کی آبادی اسکی موجودہ آبادی کی آدھی سے بھی کم تھی۔ کئی گنا آبادی بڑھنے کے باوجود ایک بھی نیا بنیادی مرکز صحت نہیں بنایا گیا۔ بڑے بڑے ہسپتال قائم کرنے کی باتیں میڈیا بھی بہت کرتا ہے اور سیاستدان بھی۔ مگر بنیادی سطح پر صحت کے مسائل کو عموماً زیرِ غور نہیں لایا جاتا۔ حکومت کی طرف سے دیہی سطح پر صحت کی سہولیات میں اگر اضافہ کر دیا جائے تو بڑے ہسپتالوں پر بھی بوجھ یقیناً کم ہو جائے گا۔ مگر اس معاملے میں حکومت کو نیک نیتی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ورنہ مذاق مذاق میں تو حکومت نے انصاف صحت پروگرام کا ڈھونگ رچایا ہے۔ چھ لاکھ کی آبادی کے لیے صرف ایک چھوٹے سے پرائیویٹ کلینک پر حکومت کی ڈرامہ بازی سے ہر باشعور واقف ہے۔

محکمہ صحت کی طرف سے تحصیل علی پور میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد ڈھائی سو کے لگ بھگ ہے۔ ہر لیڈی ہیلتھ ورکر کے پاس پندرہ سو سے دو ہزار آبادی کا کیچمنٹ ایریا ہوتا ہے جس میں وہ پولیو اور حفاظتی ٹیکوں کی مہم   کے ساتھ ساتھ فیملی پلاننگ اور زچہ و بچہ کی صحت پر بھی آگاہی پہنچانے کا کام کرتی ہیں۔ تحصیل علی پور میں آبادی کے حساب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی یہ تعداد ناکافی ہے, مزید بھرتیوں کی ضرورت ہے۔ سیاسی مداخلت اور محکمہ صحت کے افسران کی من مانیاں بھی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی بھرتیوں کو بہت متاثر کرتی ہیں۔ کئی لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسی ہیں کہ جن کا گھر کسی اور علاقے میں ہے جبکہ  ہیلتھ ہاؤس کسی دوسرے علاقے میں ہے۔ حالانکہ اس نوکری کا پہلا criteria ہی یہی ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکر اس گاؤں کی مقامی ہو کہ جو اسکا کیچمنٹ ایریا ہے۔ سفارشی بنیادوں پر بھرتیاں تو کر دی جاتی ہیں مگر عوام کو صحت کی وہ سہولیات نہیں مل پاتیں کہ جس مقصد کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ محکمہ صحت میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی کو شفاف ہونا چاہیے, یہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے۔ سفارش سے ایک خاتون کو روزگار تو مل جاتا ہے مگر اسکی وجہ سے اسکے کیچمنٹ ایریا کی سینکڑوں خواتین و بچوں کی صحت داؤ پر لگ جاتی ہے۔
اگر ہم پچھلے بیس سال کا ہی محکمہ صحت میں بھرتیوں کا موازنہ دیگر محکموں جیسا کہ محکمہ تعلیم یا محکمہ پولیس وغیرہ میں بھرتیوں سے کریں تو محکمہ صحت اس میں بہت پیچھے نظر آتا ہے۔ صحت کے معاملات کو بہتر کرنے میں حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو صحت کے عملہ میں اضافہ کرنا ہو گا اور ایجوکیٹرز کی طرح بھرتیوں کے عمل کو بھی شفاف بنانا ہو گا۔ بھرتیوں کا غیر واضح criteria کی وجہ سے محکمہ صحت میں رشوت اور سفارش بہت چلتی ہے۔
Central Asia Consult Group Sub Office Alipur

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے