تحریر(عارف حسین ملک) "نامعلوم" بڑا معلوم سا لفظ ہے جو کہ چوری, ڈکیتی, قتل و لڑائی جھگڑوں کی ایف۔آئی۔آرز میں اکثر شامل ہوتا ہے۔ محکمہ پولیس کی ساکھ خراب کرنے میں اس لفظ "نامعلوم" کا بڑا کردار ہے۔ کوئی بھی مجرم واردات کرتے وقت چاہے خود اکیلا ہونے کے لاکھ ثبوت پیش کرے, اپنا شناختی کارڈ بھی دکھلائے اور تلاشی بھی دے مگر ایف۔آئی۔آر درج کراتے وقت مدعی نامزد کے ساتھ کچھ "نامعلوم" بھی لازمی طور پر لکھواتا ہے۔ پولیس بھی مدعی کی یہ خواہش اکثر بخوشی پوری کر دیتی ہے۔
اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب کسی کے ساتھ کوئی واردات پیش آتی ہے تو کچھ شرپسند لوگ اپنے اپنے مخالفین کا رگڑا نکالنے کے لیے اسکے مشیر و ہمدرد بن کر اس واردات کی ایف۔آئی۔آر میں نامزد کے ساتھ ساتھ اپنے مخالفین کے نام "نامعلوم" کے طور پر شامل کرا لیتے ہیں۔ پھر نامزد تو نامزد ہی ہوتا ہے مگر لفظ "نامعلوم" کی آڑ میں چن چن کر فرمائشی بندے پکڑوائے جاتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں یہ "نامعلوم" والا کلچر عام ہے۔
مدعی و اسکے مشیروں کی فرمائش پر ایف۔آئی۔آر میں تھانیدار نامزد ملزم کے ساتھ "نامعلوم" بخوشی اس لیے لکھ دیتا ہے کہ یہ اسکے لیے خرچہ پانی بنانے کا بڑا آسان طریقہ ہوتا ہے۔ بےگناہ لوگ عموماً جلدی ہی کچھ دے کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح مدعی بھی راضی اور جیب بھی تازی۔
نامزد کو تو پولیس سے کوئی شکوہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس نے جرم کیا ہوا ہوتا ہے تو تھانے کچہری میں ذلیل بھی ہوتا ہے۔ مگر "نامعلوم" میں فرمائشی رگڑا کھانے والے بےگناہ لوگوں کا, انکے خاندان والوں کا, انکے رشتہ داروں کا, انکے دوستوں کا اور انکے گاؤں والوں کا پولیس کے بارے میں جو منفی تاثر بنتا ہے تو یہ کئی برسوں تک انکے دلوں پر نقش ہو جاتا ہے۔ یعنی کہ اک پولیس والے کا ایک غلط کام سینکڑوں لوگوں میں کئی برسوں تک محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث بن جاتا ہے۔
محکمہ پولیس کے سینئر افسران جو کہ عوام میں محکمہ پولیس کے امیج کو بہتر بنانا چاہتے ہیں, وہ اگر ایف۔آئی۔آرز میں اس "نامعلوم" والے مسئلے کا کوئی مناسب حل تلاش کر لیں تو یقیناً یہ عوام کے لیے بھی بہتر ہے اور محکمے کے لیے بھی


0 تبصرے