-->

سوچنے کے بعد سمجھنے کی باتیں


تحریر(عارف حسین ملک) پاکستان ٹیلی وژن کو تو آپ اچھی طرح جانتے ہونگے کہ ملک میں حالات جیسے بھی ہوں تو یہ چینل "سب اچھا" بتاتا ہے۔ پاکستان کے نظام تعلیم میں ٹیکسٹ بکس کے  معیار کو بھی آپ اب تک اچھی طرح سمجھ چکے ہونگے کہ جن کو پڑھ کر ہم کاغذ کے ٹکڑوں کی اسناد حاصل کرتے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو زمانے کا کہ جو ہمیں بہت کچھ سکھا دیتا ہے ورنہ ہم اپنے نظام تعلیم سے کچھ نہیں سیکھ پاتے۔ پاکستان میں تعلیم کی وزارت پر براجمان نکھٹو وزیروں کو بھی آپ اب تک اچھی طرح پہچان چکے ہونگے۔ کچھ عرصہ پہلے مسز طاہرہ منہاس کی صدارتی ایوارڈ یافتہ کتاب "مثالی نظامِ تعلیم " میں بھی اک رپورٹ کا حوالہ پڑھا تھا کہ پاکستان میں تعلیم کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ خود سیاستدان اور بیوروکریسی ہے تاکہ عوام اپنے حقوق پہچان نہ سکے اور مخصوص طبقہ ہمیشہ اقتدار میں رہے۔
غیر ملکی قوتوں کے اشاروں پر ہماری ٹیکسٹ بکس میں جو اسلامی تعلیمات کے حوالے سے اکثر تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں تو ان سے بھی آپ لوگ اب تک بہت اچھی واقف ہو گئے ہونگے۔ اس لیے مجھے یہ بتانے کی زیادہ ضرورت نہیں پڑے گی کہ ہم اپنے بچوں کو جو درسی کتب پڑھا رہے ہیں تو ان کا معیار کیسا ہے۔۔۔
ویسے تو ہمارے نظامِ تعلیم میں بےشمار خامیاں موجود ہیں کہ جن کو ہماری حکومتیں درست کرنے کی بجائے مزید خراب کرتی رہتی ہیں مگر آج میں جس ایک پوائنٹ پر بات کروں گا وہ یہ ہے کہ "ٹیکسٹ بکس میں ہمیں پاکستان کی غلط تاریخ پڑھائی جا رہی ہے"- اس حوالے سے میں کچھ دلائل بھی پیش کرنے کی کوشش کروں گا اور کچھ ایسے سوال بھی چھوڑ جاؤں گا کہ جن کا جواب آپ ٹھنڈے دماغ سے ضرور سوچیے گا۔  میرے مؤقف کی تائید کرنے والا شاید کوئی نہ ہو, مجھ پر تنقید یقیناً بہت ہو گی کیونکہ لوگ بھی تو وہی ہیں جو درسی کتب سے قیامِ پاکستان کی غلط تاریخ کو پڑھ کر اپنے اپنے ذہنوں میں نقش کر چکے ہیں۔ وہ لوگ ویسا ہی سوچتے اور بولتے ہیں کہ جیسا ان کو ٹیکسٹ بکس کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔

آجکل دو موضوعات پاکستان کے میڈیا پر اور عوام میں بہت ڈسکس ہو رہے ہیں۔ ایک موضوع یہ ہے کہ افغان طالبان نے مسلح مزاحمت کے ذریعے دنیا کے سپرپاور ملک امریکہ کو شکست دے دی اور اسے پسپائی پر مجبور کردیا۔ دوسرا موضوع یہ ہے کہ انڈیا نے اپنے آئین میں تبدیلی کر کے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر دی ہے۔ انڈیا کے اس عمل پر پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ساری عوام متفق ہے کہ بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھنے سے, انڈیا کے خلاف تقریریں کرنے اور نعرے لگانے اور جلسے جلوسوں سے کشمیر آزاد نہیں ہو گا بلکہ کشمیر صرف مسلح جدوجہد کے ذریعے ہی آزاد ہو سکتا ہے۔
مگر دوسری طرف پاکستان کی ٹیکسٹ بکس میں پڑھائی جانے والی قیامِ پاکستان کی تاریخ کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ
* پاکستان کو مقررین نے آزاد کرایا
* شاعروں کی شاعری کی وجہ سے آزادی کی تحریک شروع ہوئی 
* جلسے جلوسوں میں "لے کے رہیں گے پاکستان" کے نعروں سے انگریز  ڈر گیا اور بھاگ گیا۔
ہماری ٹیکسٹ بکس میں یہ جو آزاد وطن حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے اگر اس پر افغان طالبان عمل کرتے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طریقہ کے ذریعے افغان طالبان امریکہ کو اپنے وطن سے نکال سکتے؟
یا کیا ہم درسی کتب کے ان طریقوں کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی امید رکھ سکتے ہیں؟
امریکہ بھی آج اتنا سپرپاور نہیں ہے جتنا اس وقت برطانیہ تھا۔ امریکہ آج بھی اتنا بڑا ظالم نہیں ہے کہ جتنا ظالم اس وقت برطانیہ تھا۔ آج تو میڈیا کا دور ہے۔ اگر کوئی ملک کسی جگہ ظلم کرتا ہے تو وہ میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں بدنام ہو جاتا ہے مگر برطانیہ کے دورِ عروج میں تو میڈیا بھی آج جتنا عام نہیں تھا۔

آج تو بچوں کی تقریریں بھی میڈیا پر کروڑوں لوگ دیکھتے ہیں۔ اگر تقریروں کے ذریعے کشمیر آزاد کرانا ہے تو کرو جوش و ولولے والی تقریریں۔۔۔
آج تو اک عام سا بندہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی عام سی شاعری بھی لاکھوں کروڑوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ اگر شاعری کے ذریعے کشمیر آزاد کرانا ہے تو لگا دو پورے ملک کے شاعروں کو انڈیا کے خلاف شاعری پر۔۔۔
آج تو بڑے بڑے لاؤڈ سپیکر بھی عام ہیں۔ ہر شہر میں اونچی عمارتوں پر لاؤڈ سپیکر نصب کر کے لگاؤ زور زور سے انڈیا کے خلاف نعرے تاکہ وہ آپ کے ولولے سے ڈر کے کشمیر چھوڑ کے بھاگ جائے ۔
میں نے کوئی مذاق تو نہیں اڑایا۔ ٹیکسٹ بکس کے ذریعے ہماری حکومتیں اور ہمارے نام نہاد دانشور خود تو بتاتے رہے ہیں کہ پاکستان اس طریقے کے ذریعے انگریزوں سے آزاد کرایا گیا۔ پھر اپنا ہی بتایا ہوا طریقہ یہ انڈیا کے خلاف استعمال کیوں نہیں کرتے۔۔۔؟
جس طرح امریکہ طالبان کی مسلح جدوجہد سے مجبور ہو کر مزاکرات کی میز پر آیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح برطانیہ بھی مسلمانوں کی مسلح جدوجہد سے دباؤ میں آ کر بات چیت پر مجبور ہوا ہو گا۔ مگر افسوس کہ ہماری درسی کتب میں انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کے بارے میں مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ خون کی قربانیاں ان ہی لوگوں نے دی ہونگی۔ آزاد وطن کے حصول کے لیے انہوں نے ہی جان و مال , عزت و آبرو لٹائی ہو گی۔ مگر آزادی کے بعد انکی قربانیوں کا ہمیں درسی کتب میں ذکر تک نہیں ملتا۔ آگے امید بھی نہیں ہے کہ تحریک پاکستان کے ان عظیم مجاہدین کا ذکر ہماری درسی کتابوں میں آئے کیونکہ ہمارے ملک کے حکمران طبقہ میں اکثریت ان خاندانوں کی ہے کہ جو انگریزوں کے جاسوس تھے اور آزادی کے متوالوں کو پکڑوانے پر انگریزوں سے انعامات وصول کرتے تھے۔  ایسے غدار کبھی نہیں چاہیں گے کہ تحریک پاکستان کے مسلح جدوجہد کرنے والے ہیروز سے ہماری نسلیں واقف ہوں۔ کیونکہ نسلیں جب حقیقی ہیروز سے واقف ہونگی تو اس میں غداروں کا بھی ذکر آئے گا کہ جو ان حکمران خاندانوں کو کبھی پسند نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ان لوگوں نے  جدوجہد آزادی کی تاریخ پر ہمیں مقررین , شعراء اور نعرے بازوں پر ہی ٹرخایا ہوا ہے۔اس حوالے سے ہم اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی استعمال نہیں کر رہے۔ ہم مقامی سطح پر بہت سے واقعات سے واقف ہوتے ہیں کہ فلاں علاقے میں فلاں بہادر شخصیت  انگریزوں کے خلاف بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئی تھی مگر ایسی عظیم شخصیات کا ذکر ہمیں کتابوں میں نہیں ملتا۔ ابھی کیونکہ کچھ بزرگ زندہ ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کو آزاد ہوتے دیکھا تھا اور آزادی کے مجاہدین کے بارے میں بہت معلومات رکھتے ہیں۔ اگر ان بزرگوں کی مستند معلومات کو کتابوں کی صورت میں محفوظ نہ کیا گیا تو اگلے بیس تیس سال تک شاید ہمیں اس موضوع پر کچھ بھی نہ ملے۔

میں آخر میں آپ لوگوں سے بس یہی گزارش کروں گا کہ اگر آپ میرے خیالات سے متفق ہیں تو اپنے اپنے علاقوں کے بزرگوں سے تحریک پاکستان میں مسلح جدوجہد کرنے والے مجاہدین کے بارے میں معلومات ضرور جمع کر لیجیے ۔ اگر آپ وسائل رکھتے ہیں تو ان حاصل شدہ معلومات کو کتاب کی صورت میں شائع کر دیں۔ اگر کچھ تعلقات رکھتے ہیں تو اخبارات میں کالم کی صورت میں شائع کرانے کی کوشش کیجیے۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم سوشل میڈیا پر وہ معلومات لازمی شیئر کر دیجیے۔ ہو سکتا ہے کہ کبھی کوئی سچ پرست شخصیت اقتدار پائے اور ان معلومات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ہمارے عظیم شہداء کی عظیم ترین قربانیوں کو ٹیکسٹ بکس میں شامل کرا دے۔ انشاءاللہ
Central Asia Consult Group Sub Office Alipur

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے