رواں سال 14 اگست کو رونما ہونے والے واقعے گریٹر اقبال پارک میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق 13 افراد کا گینگ عائشہ کی ایک نیم برہنہ فوٹیج پر اسے 2 سال سے بلیک میل کر رہے تھے جبکہ 14 اگست کو اسے زبردستی بلیک میل کر کے مینار پاکستان لیجایا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 افراد پر مشتمل گینگ ہی دیگر ساتھیوں سے ملکر عائشہ کے کپڑے پھاڑ دئیے جبکہ رات ایک بجے ڈی آئی جی انویس ٹی گیشن کے دفتر جا کر عائشہ اکرم نے تحریری طور پر حقیقت سے پردہ اٹھا دیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی انویسٹیگیشن شارق جمال نے ایس پی سٹی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں اصل ملزم گرفتار کرنے کے لئے 2 ٹیمیں بنا دی ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ لاری اڈہ انویسٹیگیشن پولیس نے راولپنڈی میں معروف ٹک ٹاکر بادشاہ کے گھرپر چھاپہ مارا لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ملزم فرار ہوگئے جبکہ عائشہ اکرم کو 13 افراد 2 سال سے بلیک میل کر رہے تھے۔ عائشہ اکرم کا کہنا تھا کہ ایک ماہ قبل تبدیل ہونے والے ایس پی سٹی انویس ٹی گیشن کو ساری حقیقت بتا دی تھی۔
0 تبصرے