-->

ضمنی الیکشن حلقہ پی پی 273 میں سیاسی گھمسان کی جنگ

ضمنی الیکشن حلقہ پی پی 273کے امیدوار

ضمنی الیکشن حلقہ پی پی 273 میں سیاسی گھمسان کی جنگ

علی پور(رضو تو لکھے گا)ضمنی انتخاب کیلئے گھمسان کی جنگ شروع ہو چکی ہے علی پور کا سیاست دان جب بھی بکا ہے تو اگلے الیکشن کی ٹکٹ کیلئے نہ کہ علاقے کے فلاحی کاموں کیلئے انکو صرف اقتدار چاہیئے یہ اقتدار کے پیاسے ہیں انکے پیٹ کے کیڑے اقتدار سے مرتے ہیں بسا اوقات سیاسی لوگوں کی جماعتی وابستگی ہی بھول جاتی ہے صبح کہیں تو شام کو کہیں اور کی خبر چل رہی ہوتی ہے حقیقت میں وفاداریاں تبدیل کرنا جمہوریت کے چہرے پر بدنما داغ ہے لیکن علی پور میں سیاست نظریات کا نہیں بلکہ طاقت کا کھیل ہے یہاں کے سیاست دان ایسی پارٹیوں کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں جن کے اقتدار میں آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں

حلقہ پی پی 273 ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر گوپانگ گروپ کے سید سبطین شاہ ، پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر جتوئی گروپ کے یاسر عرفات جتوئی اور خضرحیات گروپ کے امیدوار ارشاد خان گوپانگ میں سیاسی دھما چوکڑی مچنے والی ہے جبکہ ٹوٹل 13 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں جو ضمنی الیکشن میں اچھل کود کر رہے ہیں بہت سے پی ٹی آئی ، مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی کے نظریاتی ورکر جو پورا سال اپنی جماعتوں کے نعرے لگاتے ہیں لیکن ووٹ وہ مخالف امیدوار کو دیں گے جب سیاسی جماعتوں کی قیادت سیاست کی سائنس کے اہم مضمون "منافقت" کا سہارا لے کر نظریاتی ورکروں کو پس پشت ڈالے گی تو ورکرز سے بھی امید ویسی رکھنی چاہیئے

گوپانگ گروپ جسکے چیف سابق ایم این اے سردار عاشق خان گوپانگ ہیں انکا یہ وطیرہ رہا ہے کہ ہر نئے الیکشن پر انکا ضمیر جاگ جاتا ہے اور یہ ٹپولی مار کر دوسری پارٹی میں چلے جاتے ہیں گوپانگ گروپ بالترتیب اسلامی جمہوری اتحاد کے بعد مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق کے بعد مسلم لیگ ن،پاکستان تحریک انصاف کے بعد اب تیسری بار مسلم لیگ ن جوائن کر رہے ہیں جتوئی گروپ نے بھی کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا کبھی پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر تو کبھی آزاد حیثیت سے میدان میں چھلانگ مار دی جتوئی گروپ جمعیت علماء پاکستان (ن)،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مزے لینے کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگیا ہے خضر حیات گروپ بھی سیاسی پینترے چلنے کے بجائے اجلت دیکھا جاتا ہے ضمنی الیکشن میں گروپ کے متفقہ فیصلے سے آزاد حیثیت سے ارشاد خان گوپانگ کو اپناامیدوارسامنے لائے ہیں

ضمنی الیکشن کی گہما گہمی شروع ہوتے ہی سیاسی کنکترے بھی سیاسی ڈیروں پرلگی کرسیوں پربراجمان ہو کر سیاسی دانشور بن بیٹھے ہیں

صوبائی حلقہ کے سابقہ الیکشن پر نظر ڈالی جائے تو جتوئی گروپ کے یاسر عرفات جتوئی نے آزاد حیثیت سے 2002 اور شہزاد رسول جتوئی نے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر 2008 کے جنرل الیکشن میں کانٹے دار مقابلہ کے بعد بالترتیب سید سبطین شاہ کے والد ق لیگ کے ٹکٹ ہولڈر سید افضال مصطفی کو ہرایا تھا جبکہ گوپانگ گروپ کے سید سبطین شاہ نے 2013 میں آزاد حیثیت سے جبکہ 2018 میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر بالترتیب شہزاد رسول جتوئی اور حاجی رسول بخش جتوئی کو شکست دی تھی جبکہ خضر حیات گروپ کے امیدوار ارشاد خان گوپانگ پہلی بار ایم پی اے کا الیکشن لڑ رہے ہیں ارشاد خان گوپانگ علی پور کی معروف شخصیت ہیں انکا عوام اور انتظامیہ میں بہت اچھا اثرورسوخ ہے یہ بھی شنید ہے کہ ارشاد خان گوپانگ تحریک لبیک کی ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے اگر ایسا ہوا تو پھر سونے پہ سہاگہ ہو جائے گا

چند برسوں میں علی پور میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی نسبت پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ بینک میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جیت کے ڈھول کس کے بجیں گے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا یاسر عرفات جتوئی، سید سبطین شاہ، ارشاد خان گوپانگ میں کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے پی ٹی آئی کی ٹکٹ ملنے سے یاسر عرفات جتوئی کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے لیکن جیت کیلئے سفر ابھی باقی ہے جبکہ سید سبطین شاہ کے راستے میں ارشاد خان گوپانگ گھات لگائے بیٹھے ہیں جو بازی پلٹنے کا ہنر خوب جانتے ہیں سیاسی پنڈتوں کے مطابق ضمنی الیکشن میں کوئی ہارے یا جیتے لیکن سید سبطین شاہ کی ہار پکی ہے

تحصیل علی پور مسائلستان کا گڑھ بن چکی ہے شہر بھر کا امن تباہ ہو رہا ہے سنا ہے جنگل میں کسی گھونسلے سے بچہ گر جائے تو پورا جنگل جاگ جاتا ہے لیکن معلوم نہیں علی پور کی عوام کا شعور کب جاگے گا مسافر بس میں سات والی سیٹ پر بیٹھے مسافر کے پاس تو نمکو کراری بیچنے والا بھی نہیں جاتا جب تک وہ آواز لگا کر نہ بلائے یہی وقت ہے پپیاں جپیاں ڈالنے اور سیلفیاں بنانے سے پہلے ان عوامی نمائندوں سے علاقے کی محرومیوں کا حساب لیں اپنا حق مانگیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں مہنگائی تو عروج پر تھی لیکن جو افراتفری مسلم لیگ ن کی حکومت کے آنے سے پیدا ہوئی ہے ایسی کیفیت پہلے نہیں تھی اب فیصلہ علی پور کی عوام نے کرنا ہے کہ وہ جاگ رہی ہے یا سو رہی ہے یا پھر سوشل میڈیا پر چوکیدار کی طرح "جاگتے رہو" کے نعرے لگاتی رہے گی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے