بجلی فی یونٹ ساڑھے سات روپے اضافے کے معاملے پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ
بجلی کی قیمت میں ساڑھے سات روپے فی یونٹ تک اضافے پر سماعت مکمل ہونے کے بعد نیپرا نے درخواست پرسماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ساڑھے سات روپے اضافے کے معاملے پروفاقی حکومت کی درخواست پر نیپرا میں چئیرمین توسیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت سماعت ہوئی۔وفاقی حکومت ٹیرف میں اضافے کی منظوری کابینہ سے لے چکی، نیپرا سماعت کے بعد وفاقی حکومت نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔چیئرمین نیپرا کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کا کام ہے۔ نیپرا اپنا کام کر چکا ہےاور اپنی سفارش کر دی ہے۔ سبسڈی کا تعین حکومت کا کام ہے۔
وزارت توانائی حکام نے کہا کہ حکومت نے اس میں 158ارب روپے کی سبسڈی رکھی ہے۔ پہلے چار کیٹیگریز میں سبسڈی دی ہے اور کوئی اضافہ تجویز نہیں کیا گیا۔چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ہم نے الیکشن نہیں لڑنا ہے۔ حکومت سبسڈی دیتی ہے تو وہ کہاں سے دی جائے گی۔ کیا گنجائش ہے کہ حکومت ایک شعبے کو سبسڈی دے کر دوسرے سے لے۔ ملک میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ بجلی کی عدم دستیابی نہیں۔چیئرمین نیپرا کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ مہنگا خام تیل ایل این جی نہ منگوانا ہے، ڈالر کی قلت کے باعث درآمدی فیول کم منگوایا گیاَ۔ پاور سیکٹر میں بغیر منصوبہ بندی کے پاور پلانٹس لگائے گئے۔ ڈیمانڈ بیسڈ پاورپلانٹس لگتے تو کیپسٹی پیمنٹ کا معاملہ نہ آتا۔
بجلی کی قیمت میں ساڑھے سات روپے فی یونٹ تک اضافے پر سماعت مکمل ہونے کے بعد نیپرا نے درخواست پرسماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔نیپرا تفصیلات کا جائزہ لے کر اپنا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوائے گا۔ وفاقی حکومت بجلی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے بعد صارفین سے وصولی شروع ہوجائے گی۔


0 تبصرے