علی پور کی سیاست میں وڈیرہ شاہی اور بزنس کمیونٹی میں سرد جنگ شروع ہونےوالی ہےعرصہ دراز سے علی پور پر مسلط گودے سردار سے اقتدار چھیننے کیلئے بزنس کمیونٹی کے لوگ سیاست میں آ رہے ہیں حقیقت میں بزنس کمیونٹی اور وڈیرہ شاہی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں علی پور کی عوام کی یہ بدقسمتی ہے کہ حقیقی عوامی نمائندے آج بھی بس اسٹینڈ پر کھڑے ہاکر کی طرح ووٹ اکٹھے کرنے میں لگے ہیں جبکہ گودے سردار انکا سارا کریڈٹ اپنے نام کر کے ایوانوں میں بیٹھ کر ون بائی ٹو کا فارمولا استعمال کر کے مال پانی بنانے میں لگ جاتے ہیںعلی پور کے موجودہ سیاسی حالات کی بات کی جائے تو سوشل میڈیا پر تیسرے سیاسی دھڑے کے چرچے ہو رہے ہیں یہ تیسرا سیاسی دھڑا سید قائم علی شمسی اور عبدالغفور ملک کے الحاق سے وجود میں آیا ہے پہلے تو یہی توقع کی جا رہی تھی کہ آئندہ الیکشن میں گوپانگ گروپ اور جتوئی گروپ کے امیدواروں میں ون ٹو ون مقابلہ ہوگا لیکن تیسرے سیاسی دھڑے نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے علی پور کی سیاست میں نئی روح پھونک دی ہے گوپانگ گروپ کے حامی خوشیاں منا رہے ہیں کہ جتوئی گروپ کا نقصان ہوا ہے جبکہ جتوئی گروپ والے بھی جیت کیلئے پرامید ہیں یہ بات تو آشکار ہے کہ ون ٹو ون مقابلے کی صورت میں جتوئی گروپ کا پلڑہ بھاری رہا ہے جبکہ تیسری پارٹی کی انٹری سے گوپانگ گروپ کو ہمیشہ فائدہ پہنچا ہے اگر بات کی جائے تیسرے سیاسی دھڑے کی تو عبدالغفور ملک سرفہرست ہیں ملک صاحب 2008 کے جنرل الیکشن میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کی دوڑ دھوپ میں شامل تھے ٹکٹ کی ناکامی پر گھر بیٹھ گئے پھر اچانک سے 14 سال بعد 2022 میں پی ٹی آئی جوائن کرتے ہوئے ایم این اے کا الیکشن لڑنے کا عندیہ دیا تھا پی ٹی آئی کی جانب سے مایوس لوٹنے پر اب کی بار گھر نہیں بیٹھے بلکہ سید قائم علی شمسی سے ملکر پاکستان پیپلز پارٹی جوائن کر کے دوبارہ سے حلقہ 186 سے ایم این اے کا الیکشن لڑنے کا عندیہ دے دیا ہے ملک صاحب ایک پرائیویٹ ادارہ چلاتے ہیں عوامی فلاحی کاموں اور عوام سے میل ملاپ سے دور رہتے ہیں ملک صاحب شارٹ کٹ کے ذریعے سیاست میں آنا چاہتے ہیں وگرنہ ان 15 سالوں میں سیاست سے جڑے رہتے عوامی رابطہ مہم چلاتے تو بہت کچھ حاصل کر لیتے شاید ملک صاحب کو جدوجہد پر یقین نہیں رہا اس لیے یہی راستہ اختیار کیا ہے ملک صاحب اب بھی دل سے یہ ٹھان لیں چاہے کچھ بھی ہو جائے ان جاگیرداروں کا مقابلہ کرنا ہے تو وہ دن دور نہیں جب ملک صاحب علی پور کا سیاسی برانڈ ہوگااسی طرح سید قائم شمسی نے جنرل الیکشن 2002 میں انٹری ماری اور دھوم دھام سے آزاد حیثیت سے ایم پی اے منتخب ہو کر پارلیمانی سیکرٹری منتخب ہوئے جبکہ 2008 میں سیاسی گورکھوں کے ہتھے چڑھ کر الیکشن میں حصہ نہیں لیا وہ دن تھا یا آج کا دن ہے پارٹیاں تبدیل کرلیں لیکن جیت کو دوبارہ گلے سے نہیں لگا سکے 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر 2018 میں آزاد حیثیت سے قسمت آزمانے کی کوشش کر چکے ہیں اب کی بار پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر صوبائی حلقہ 279 سے 2023 کا متوقع الیکشن لڑیں گےجبکہ صوبائی حلقہ 278 سے عبدالعزیز کھلنگ پیپلز پارٹی کا ٹکٹ پہلے ہی لے چکے ہیں وہ بھی اسی سیاسی دھڑے کا حصہ بن جائیں گے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تیسرا سیاسی دھڑا علی پور کی سیاست میں کیا کردار ادا کرتا ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا فی الحال ملک میں جلد الیکشن کا انعقاد ایک خواب و خیال بن چکا ہے سیاست دانوں کو یہ بخوبی علم ہے کہ 14 مئی کو پنجاب کا الیکشن ناممکن دیکھائی دے رہا ہے اسکے باوجود وہ سیاسی کمپین جاری رکھے ہوئے ہیں۔


0 تبصرے