-->

میرے تحقیقی سفر میں کچھ "بہترین" اور کچھ "مایوس ترین" یادگار واقعات

علی پور کی تاریخ پر تحقیق کا کام میں نے 2008ء میں شروع کیا اور 2010ء میں میری پہلی کتاب "تاریخِ علی پور" شائع ہوئی۔ اسکے بعد مزید تین کتابیں بھی شائع ہوئیں۔ 2008ء سے 2023ء تک کے پندرہ سال کی جدوجہد میں متعدد بار"مایوس کن" لمحات بھی آئے اور "حوصلہ افزاء" بھی۔عجب بات یہ ہے کہ جو 2008ء میں مایوس کن تھا وہ 2023ء تک بھی مایوس کن ہے اور جو 2008ء میں حوصلہ افزاء تھا وہ 2023ء تک بھی حوصلہ افزاء ہے۔ سب سے زیادہ مایوس کن یہ تھا کہ 2008ء میں علی پور کی تاریخ پر تحقیق کا پلان بنایا تو پہلا قدم گورنمنٹ بوائز کالج علی پور رکھا۔ مجھے امید تھی کہ کالج کی لائبریری فعال ہو گی , کالج کا میگزین شائع ہوتا ہو گا اور کالج کے نامی گرامی پروفیسرز کی رہنمائی کے ذریعے میں مختصر وقت میں ہی اپنے مقصد کی تکمیل میں کامیاب ہو جاؤں گا۔
مگر جب میں کالج پہنچا تو ساری امیدیں مایوسی میں بدل گئیں۔ کالج کی لائبریری میں علی پور کی تاریخ کے حوالے سے ایک ورق بھی موجود نہیں تھا، کالج کا میگزین دس دس برس شائع نہیں ہوتا تھا اور جب کبھی شائع ہوا تو اس میں بس ورق ہی کالے کیے گئے۔پروفیسرز صاحبان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ عارف صاحب علی پور کی تاریخ کے حوالے سے ہمارے پلے کچھ نہیں ہے۔ اگر آپکو کہیں سے مواد مل جائے تو پلیز ہمیں بھی بتانا۔کالج سے خالی ہاتھوں کے ساتھ ساتھ خالی دماغ واپس لوٹنا پڑا۔
میرا مختصر وقت میں تحقیق والا پلان پھر دو سال لمبا ہو گیا اور بالآخر 2010ء میں "تاریخ علی پور" شائع ہوئی۔ کتاب مختلف جگہوں تک پہنچی تو دیگر محققین اور ایم۔فل کے تھیسز لکھنے والے اسٹوڈنٹس بھی اکثر رابطہ کرتے رہتے۔ میری طرح انہیں بھی کبھی گورنمنٹ بوائز کالج علی پور سے کوئی ایک کالا ورق نہ ملتا۔ حتٰی کہ ایک اسٹوڈنٹ کے تھیسز کا موضوع "گورنمنٹ بوائز کالج علی پور کی تاریخ" تھا تو اس پر بھی انہیں کچھ نہ ملا۔ میں نے تھیسز کا سوالنامہ پڑھا تو اس میں کالج کے بارے میں بڑے سادہ سے سوالات تھے کہ کالج کی بنیاد کب اور کس نے رکھی؟ کالج کا رقبہ اور نقشہ؟ کالج کے پرانے اسٹوڈنٹس اور ٹیچرز؟ کالج کی عمارت کی تفصیل؟ کالج کی ادبی و کھیلوں کی سرگرمیاں وغیرہ وغیرہ۔انتہائی انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ایک پوسٹ گریجویٹ کالج میں ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ حاصل کرنے والی لیکچرارز کی فوج اپنے کالج کی تاریخ پر نہ ہی خود دو چار ورق اکٹھے کر سکی اور نہ ہی اس مقصد پر کسی اور کو سہولت دی۔
یہ نہ صرف بہت بڑی غیر ذمہ داری کا نمونہ ہے بلکہ علی پور کی دھرتی اور اسکے باسیوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ کالج میگزین سرکاری فنڈز مہیا ہونے کے باوجود کالج عملہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے شائع نہیں کیا جاتا۔ جو مایوسی مجھے 2008ء میں کالج سے ملی تھی وہی مایوسی پندرہ سال بعد بھی ویسی کی ویسی ہے۔ میرے بعد درجنوں ریسرچ سکالرز کالج سے خالی ہاتھ لوٹتے رہے۔ قارئینِ کرام آپکو میں نے اپنے پندرہ سالہ تحقیقی سفر کے مایوس ترین لمحات کے بارے میں بتا دیا۔ اب بہترین واقعات کے بارے میں بھی بتاتا ہوں۔ علی پور کی تاریخ پر تحقیق کے دوران مجھے کسی نے میاں طارق احسان صاحب (سیت پور) کے بارے میں بتایا کہ انکے پاس علی پور کی تاریخ کے حوالے سے کافی معلومات موجود ہیں۔
پھر اک دن میں انکے پاس چلا گیا۔ میاں صاحب کے پاس لیپ ٹاپ میں سیت پور کی تاریخی عمارتوں کی نایاب تصاویر موجود تھیں۔انہوں نے وہ ساری تصاویر اپنی فلیش میں کاپی کر کے وہ فلیش میرے حوالے کر دی۔ سیت پور کی تاریخ کے بارے میں قلمی نسخہ جات و دیگر کتابوں کی فوٹو اسٹیٹ کرا دی اور اپنی بائیک پر بٹھا کے مجھے سیت پور کی ساری تاریخی عمارتیں دکھائیں اور ساتھ ساتھ انکی تفصیلات بھی بتائیں۔ اسکے بعد پرتکلف کھانا کھلا کے رخصت کیا۔ میاں صاحب کے تعاون سے میرا حوصلہ بڑھا اور میں کالج والی مایوسی بھی بھول گیا۔ تحقیق مکمل ہوئی تو کتاب شائع کرا لی۔ کتاب جنوبی پنجاب کی مختلف لائبریریوں تک پہنچ گئی۔
علی پور کے مختلف موضوعات پر تھیسز لکھنے والے ایم۔فل اسٹوڈنٹس کو جب کالج سے کچھ نہ ملتا تو وہ مجھ سے رابطہ کرتے۔ میں اپنے پاس دستیاب معلومات فراہم کرتا اور مزید معلومات کے لیے انکو میاں طارق احسان صاحب کے پاس سیت پور بھیج دیتا۔ میاں صاحب انکو بڑی گرم جوشی سے خوش آمدید کہتے، معلومات فراہم کرتے اور سیت پور کی تاریخی عمارتوں کی سیر کرانے کے بعد مہمان کے لیے ہر بار پرتکلف کھانا۔ 2008ء سے یہ سلسلہ شروع ہوئے اب تک پندرہ برس ہو چکے ہیں۔
اس دوران میں درجنوں اسٹوڈنٹس و ریسرچ سکالرز کو میاں طارق احسان صاحب کے پاس سیت پور بھیج چکا ہوں۔ ان پندرہ برس میں میاں طارق احسان اور انکے بیٹے میاں محمود طارق کی مہمان نوازی اور تعاون میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سیت پور کی تاریخ پر سب سے زیادہ معلومات میاں صاحب کے پاس ہیں۔ علی پور و سیت پور پر جتنے بھی تھیسز یا کتابیں لکھی گئی ہیں تو یہ سب میاں صاحب کے تعاون کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ اک طرف لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں لینے والے کالج کے درجنوں لیکچرارز جو سرکاری فنڈز کے باوجود علی پور کی تاریخ پر کچھ نہ کر سکے۔دوسری طرف اکیلے میاں صاحب ہیں کہ جو اپنے وسیب کی محبت میں اپنا قیمتی وقت اور وسائل بخوشی خرچ کر کے تحصیل علی پور کی تاریخ کو ملک بھر میں روشناس کرا رہے ہیں۔اللّٰہ تعالیٰ میاں صاحب کو صحت ،تندرستی اور لمبی عمر عطا فرمائے (آمین)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے