علی پور (عبدالوحید قادری سے)شریف خاندان کی جنوبی پنجاب میں منتقل کی گئی غیرقانونی شوگر ملز نےسپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح حکم کے باوجود کرشنگ سیزن 2023کے لئے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اس حوالے سے گزشتہ روز حسیب وقاص شوگر ملز علی پورکے جنرل منیجر مرزا محمد علی نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ ان شاء اللہ 20 سے 25 نومبر تک گنے کی کرشنگ کا اغاز کر دیا جائے گا جن لوگوں کے ملز کے ذمہ بقایاجات ہیں، اس دفعہ ان کو ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گےگزشتہ پانچ سالوں سے ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ مل بند رہی۔ میں پچھلے 32 سالوں سے دوسری ملوں میں جی۔ ایم کی پوسٹ پر کام کر رہا ہوں اور اب اس مل کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کروں گاایماندارانہ کوششوں سے یہ مل کامیاب ہو گی اور اہل علاقہ کو روزگار میسر ہو گا۔اس موقع پر کین منیجر عبدالرشید قریشی بھی موجود تھے دوسری جانب علی پور تحصیل کے قانونی سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا جارہا ہے کہ مقتدر حلقوں نے شریف خاندان کو پاکستان میں ماورائے آئین سہولیات فراہم کی ہوئی ہیں جن کا یہ خاندان بھرپور فائدہ اٹھارہا ہے ملک میں جاری شوگر قیمتوں کے بحران کا ذمہ دار بھی شریف خاندان ہی ہے جو عوام کو مشکلات میں پھنسا کر خود لندن میں انجوائے کررہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2017میں شریف خاندان کی چار شوگر ملز کی جنوبی پنجاب میں منتقلی کو غیر قانونی قرار دے کر انکو ان کو سابقہ اضلاع میں بحال کرنے کا حکم صادر کیا تھا جس میں شریف خاندان کی عدالت عظمیٰ نے نظرثانی اپیل بھی خارج کر دی تھی لیکن اب چار سال بعد کیسے یہ شوگر ملز کرشنگ سیزن شروع کرنے جارہی ہیں حالانکہ ان ملز کے ذمہ کسانوں کے پہلے ہی اربوں روپے کے واجبات ہیں بااثر ہونے کی وجہ سے کسان سالہا سال سے اپنے واجبات کے لئے شریف خاندان کے پیچھے مارے مارے پھر رہے ہیں انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لئے جنوبی پنجاب میں شریف خاندان کی غیر قانونی منتقل کی گئی شوگر ملز بارے واضح احکامات جاری کرے یہ نہ ہوکہ پہلے سے پھنسے ہوئے کسان غیرقانونی شوگر ملز کو گنا دیکر مزید پریشان ہوں ۔


0 تبصرے