-->

علی پور کے پکھی واس سیاست دان

Published from Blogger Prime Android App
برصغیر میں سیاسی وفاداریوں میں تبدیلی کی تاریخ پاکستان کے قیام سے بھی پرانی ہے پنجاب کے مشہور سیاست دان ڈاکٹر محمد عالم لوٹا کو بار بار سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے کی وجہ سے "لوٹا" کا خطاب دیا گیا قیام پاکستان کے بعد بھی ادلتی بدلتی وابستگیوں کا سلسلہ جاری رہا جس کیلئے چھانگا مانگا ، ہارس ٹریڈنگ اور وکٹ گر گئی کی اصطلاح استعمال ہونے لگی پاکستان میں جب بھی سیاسی ہیر پھیر ہوتی ہے تو پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے سیاست دان سب سے آگے ہوتے ہیں تحصیل علی پور کے سیاست دان تو پکھی واس ہیں اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہاں کے سیاست دان جھونپڑیوں میں رہتے ہیں بلکہ یہاں کے سیاست دان وڈیرے جاگیردار ہیں ان کیلئے پکھی واس کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے چونکہ انکا مسکن کوئی ایک پارٹی نہیں ہے بلکہ یہ ہر آنے والے الیکشن کیلئے اپنے گھگھو گھوڑوں کے ساتھ نئی پارٹی کی تلاش میں لگ جاتے ہیں
گوپانگ گروپ کے چیف سردار عاشق گوپانگ کی سابق وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان غیر فطری نہیں ہے گوپانگ گروپ 2002 کے الیکشن میں مسلم لیگ ق ، 2013 کے الیکشن میں آزاد جیت کر مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے جبکہ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے ساتھ وابستگی تھی اسی طرح جتوئی گروپ کی بات کی جائے تو کبھی آزاد کبھی پیپلز پارٹی سے الیکشن لڑا ہے اور اب پی ٹی آئی کا سہارا لیے بےسہارا ہوئے کھڑے ہیں رہی بات بخاری گروپ کی تو وہ بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے مسلم لیگ ق  اور مسلم لیگ ن سے ہوتے ہوئے اب ہارون سلطان بخاری نے علی پور کے حلقہ سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے بخاری گروپ کھنبی کی طرح الیکشن کے موسم میں علی پور نکل آتا ہے
علی پور میں سیاست کا معیار یہ ہے کہ جاگیردار سیاستدانوں کے مشیر کوئی منجھے ہوئے سیاسی لوگ یا پڑھے لکھے نوجوان نہیں ہیں  بلکہ ٹاؤٹ مافیا ہیں جنکی خصوصیات یہ ہیں چند تھانیداروں سے واقفیت ، پٹواڑیوں سے علیک سلیک ، مختلف محکموں کے افسران کے موبائل نمبر رکھنا کسی بھی دو افراد میں تنازعات پیدا کروا کر پولیس کے نام پر چٹی دلالی کرنا ، کالی واسکٹ پہن کر سیاسی ڈیروں پر لگی کرسیوں پر براجمان ہونا مفت کی روٹی توڑنا وغیرہ وغیرہ غریب کیلئے معاشی اور سماجی انصاف کا نعرہ لگانے والی سیاسی ہستیاں دراصل یہی ہماری پستیاں ثابت ہوئی ہیں ان سیاست دانوں کے لفظوں کے برتن اندر سے خالی ہوتے ہیں خواب توڑنے کیلئے دیکھاتے ہیں انکے وعدے جھوٹے ہوتے ہیں سیاست جو خدمت انسانیت کا عظیم شعبہ مانا جاتا ہے مگر انسانی خدمت کے اس سمندر کو سیاسی مگرمچھوں نے تھانہ کچہری اور قبضہ مافیا کے تعفن سے بدبو دار کردیا ہے پانی ،صحت اور تعلیم  انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات ہیں ان کے بغیر انسان کو اپنی طرز زندگی گزارنا نہایت ہی مشکل اور دشوار ہوتا ہے مگر اس لاوارث تحصیل کے مکینوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا جیسا سلوک جاری و ساری ہے پانچ دریاؤں کے سنگم میں واقع تحصیل علی پور کے کاشتکار اس دور جدید میں بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے