-->

پولیس کے 30 سال پرانے ریکارڈ سے لرزہ خیر کہانی سینئر صحافی قمر اقبال جتوئی کی زبانی ( تیسری قسط ۔۔۔۔۔ )

Published from Blogger Prime Android App

تحریر : سینئر صحافی قمر اقبال جتوئی


تیسری قسط ۔۔۔۔معزز قارئین!! صادق شاہ نے انوسٹی گیشن ٹیم کو جو کچھ بتایا وہ سارے بیانات ٹیم کے ممبران لکھتے رہے تھے اور پھر اس کے بیانات کی روشنی میں اسکے ساتھ سوال جواب بھی کرتے رہے صادق شاہ پندرہ دن سے زاید ان کی تحویل میں رہا  میں نے اس کے سارے بیانات پڑھے ہوئے ہیں اگر میں وہ لکھنے بیٹھ جاؤں تو یقیناً آپ میں سے اکثر قاری سخت بور ہوں گے، اس لئے میں اس کے بیانات کا خلاصہ لکھ رہاہوں، جب صادق شاہ کو  خان پور لایا گیا اور میری اس کے ساتھ ملاقات ہوئی اور کچھ سوال جواب بھی ہوئے تو ان میں سے فی الھال میں ملک سلطان محمود کے قتل والے واقعہ بارے تحریر کررہا ہوں اس کے ساتھ مزید سوال جواب  اگلی قسط میں شامل کروں گا، صادق شاہ نے جہاں جہاں سنگین جرم کرتے ہوئے کچھ ایسے گھناؤنے فعل کئے ہیں اب میں ان کا تذکرہ سے بھی گریز کررہا ہوں ۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                        
 
صادق شاہ کا پس منظر تھا کیا؟ 
  لودھراں کی تحصیل دنیا پور کے چک 255میں منظور احمد قریشی کے گھر پیدا ہونے والے لڑکے کا نام اس کے باپ نے محمد صادق رکھا، یعنی سچا!! جس کو دنیا نے صادق شاہ کہہ کر بلایا، اس کے چار بھائی اور بھی تھے صادق شاہ اور اس کے بھائی بلوغت میں آئے تو ان میں سے دو روزی روٹی کی تلاش میں کراچی نکل گئے اور دو نے صادق شاہ کے ساتھ مل کر چھوٹی موٹی چوریاں شروع کردیں، ان کا باپ منظور احمد قریشی یہ بات کیسے برداشت کرسکتا تھا، اس نے اپنے بیٹوں کو بہت سمجھایا، لاتعلقی بھی اختیار کرلی، ضمانتوں اور رہائی دلوانے میں بھی دلچسپی لینا چھوڑ دی، یہ بھی یاد رہے کہ ایسا وہ اس لئے بھی کرتا تھا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا تھا اور اس کے یہ بیٹے اس دوسری شادی میں رکاوٹ تھے، اسی دوران صادق شاہ اور اس کے بھائی مختیار شاہ عرف حاجی شاہ نے جوئیہ برادری کی دو عورتوں کو ان کی والدہ کی ملی بھگت اور رضامندی سے اغوا کرلیا، جوئیہ برادری نے ایک وفاقی وزیر سے کہلوا کر صادق شاہ اور اس کے بھائی کے خلاف اغوا اور زناء کا مقدمہ بھی درج کروایا اور ان دونوں کو گرفتار کروا کر کیس کی پیروی کی اور تین سال کی سزا بھی دلوائی، صادق شاہ سزا یافتہ ہو کر پہلے لودھراں جیل میں رہا مگر اپنی لڑائی بھڑائی والی طبیعت کے باعث جیلر نے اسے بہاولپور سنٹرل جیل بھیج دیا جہاں اس کی بہت سارے کریمنل لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں رہیں اور یوں جیل میں بھی اس کا ایک گینگ بن گیا، صادق شاہ کے جیل جانے کے بعد اس کی منکوحہ بشیراں بی بی نے دارلامان میں پناہ لے لی اور دوسری عظیماں بی بی کا چالان ہوگیا، جوئیہ برادری کو جب معلوم ہوا کہ لڑکیوں کے فرار میں خود ان کی ماں کی ملی بھگت تھی تو انہوں نے اسے بھی غیرت کے نام پر قتل کردیا، 

 چوری چکاریوں سے ڈکیتیوں اور خونریزی کی طرف پیش قدمی!!! سزا ختم ہونے سے تھوڑا عرصہ قبل جیل میں صادق شاہ کی دوستی رشید مہاجر نامی ایک شخص سے ہوگئی، جس کی بہن کو لودھراں کے ایک بااثر شخص طالب بلوچ نے اغوا کر رکھا تھا، رشید مہاجرنامی بندہ مالی طور پر آسودہ تھا اس لئے وہ جیل میں کھانے پینے کی بہت ساری اشیاء منگواتا تھا اور صادق شاہ کیونکہ اس بیرک کا نمبردار بنا ہوا تھا اس لئے وہ تمام اشیاء پہلے صادق شاہ کے آگے رکھتا، اُس کی اِس ادا سے صادق شاہ اور رشید مہاجر کے درمیان دوستی ہوگئی،جب جیل میں صادق شاہ کے آخری دن چل رہے تھے تو رشید مہاجر نے صادق شاہ کو فرمائش کی کہ تم باہر نکل کر میری بہن کو اغوا کرنے والے طالب بلوچ سے میری بہن کی واپسی کرواؤ گے یا اسے قتل کرو گے، رشید مہاجر اور صادق شاہ نے آپس میں عہدو پیمان کئے، صادق شاہ نے اس کی مدد کرنے کا پکا وعدہ کرلیا، سزا ختم ہوتے ہی صادق شاہ اپنے پرانے دوستوں ہم نوالہ و ہم پیالہ ستاری گوپانگ، حمیدا ماچھی، اللہ ڈتہ بوہڑ کو ساتھ لے کر طالب بلوچ کے پاس گیا، جہاں طالب بلوچ نے دو شرائط پر لڑکی واپس کرنے کی آمادگی ظاہر کردی اس کی پہلی شرط یہ تھی کہ میں کسی بہانے سے خود ہی جیل چلا جاؤں گا اور تم  لوگ میرے ایک مخالف ”ممرا“ نامی بندے کو قتل کروگے اور دوسری شرط یہ کہ میرے دوسرے مخالف سندھڑ سرا والی کے گھر ڈکیتی کرکے گھر کا صفایا کرے، چھوٹی موٹی چوریاں کرنے والے صادق شاہ کی زندگی کا وہ موڑ آگیا تھا جہاں سے آگے چل کر اس نے پیشہ ور اور اجرتی قاتل، راہزن، ڈکیت اور عزتوں کے لٹیرے کے روپ میں ایک بہت بڑے علاقے کا سکون برباد کرنا تھا، طالب بلوچ نے صادق شاہ کو ایک عدد کلاشنکوف مہیا کی اور چند ہزار روپے بھی دان کئے، صادق شاہ نے کلاشن پہلی مرتبہ دیکھی تھی اس نے کلاشن کے زور پر اپنی زندگی کی پہلی ڈکیتی سندھڑ سراوالی کے گھرماری، اس ڈکیتی سے صادق شاہ کو 25تولے سونے کے زیورات اور ہزاروں روپے نقد ہاتھ لگے، یہیں سے اُن کے منہ کو خون لگا اور اس نے ڈکیتیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے ایک مضبوط گروہ تشکیل دیا، جس میں عبدالستار عرف ستاری گوپانگ سکنہ بیٹ ملاں تحصیل علی پور، عبدالحمید قوم ماچھی عرف حمیدا ماچھی سکنہ کان دی واہی تحصیل خان پور، اللہ ڈتہ بوہڑ سکنہ بستی بوہڑ موضع شاہ محمد مڑل تحصیل خان پور، انور عرف انو ماچھی سکنہ کان دی واہی خان پور، کہروڑ پکا کے رہائشی رحیماں اور کریماں دو بھائی، اس کے علاوہ اشرف، سعید عرف ڈیڈا، فلک شیر عرف فلکا، فلکا سندھڑ بھی اسی کے ساتھی تھے، 
 صادق شاہ کے ساتھ دھوکہ!! طالب بلوچ کی فرمائش پر ڈکیتی ڈالنے  اور اس کے مخالف ”ممرا“ نامی بندے کو قتل کرنے کے بعد صادق شاہ نے ا سے حسب وعدہ لڑکی حوالے کرنے کا کہا تو اس نے رات دو بجے آنے کا کہا، صادق شاہ مقررہ وقت پر اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر طالب بلوچ کے ڈیرے پر آرہا تھا کہ راستے میں ان پر فائرنگ ہوگئی، جس میں اس کے دو ساتھی سعید ارائیں اور اشرف ڈوڈانی مارے گئے، صادق شاہ کو پسپا ہونا پڑا، اور ایک نئے حملے کی تیاری مکمل کرنے تک اس نے لودھراں کے علاقے میں موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتیں شروع کردیں، 
 اسلحہ کا حصول!! چھینے ہوئے موٹر سائیکلوں اور لوٹ کھسوٹ کی رقم سے اس نے اسلحے کی خریداری شروع کردی، یہ اسلحہ اسے امیر خاں نامی پٹھان فراہم کرتا رہا، امیر خاں ضلع بنوں میراں شاہ کا رہائشی تھا، 
 بڑے پیمانوں پر وارداتوں کا آغاز!! صادق شاہ اپنی شیطانی ذہنیت اور طالب بلوچ کی دھوکہ بازی کی وجہ سے زخمی سانپ کی شکل اختیار کرگیا، دنیا نے تجربات اور حوادث کی شکل میں جو کچھ اسے دیا تھا اب وہ اسے سود کے ساتھ لوٹا رہا تھا، لیکن اب اس کا نشانہ اس جیسے مجرم نہیں بلکہ پرامن شریف شہری بھی تھے 
 صادق شاہ نے انوسٹی گیشن ٹیم کو بتایا کہ اس نے اپنے درندہ صفت گروہ کے ساتھ مل کر ملتان کی بستی شیرپور میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے والے تین افرد کو قتل کرکے پوری بستی کو لوٹ لیا، حمید جھنگی سکنہ علی پور کے گھر ڈاکہ مار کر زیورات، بندوق اور موٹر سائیکل کے علاوہ اس کے بیٹے کو ساتھ لے گئے دھمکی دی کہ اگر شور مچایا تو تمہارے بیٹے کو مار کر نہر میں بہا دیں گے، لودھراں میں نذیراحمد سکنہ ملوک کانجو سے اس کی موٹر سائیکل اور گھڑی و نقدی چھین لی اور چھینا گیاموٹر سائیکل بہاولپور جیل کے ایک کانسٹیبل کو اس لئے دیدیاکہ وہ سپاہی جیل میں قید صادق شاہ کا بڑا خیال کرتارہا تھا،
 طالب بلوچ کا کیا ہوا؟ دھوکہ صادق شاہ کیسے بھلا سکتا تھا، طالب بلوچ کے گھر پر صادق شاہ نے ایک رات سات ہینڈ گرنیڈ پھینکے جس سے گھر کی تمام چھتیں اڑ گئیں، گھر میں مقیم کچھ افراد مارے گئے اور کچھ زخمی ہوئے مگر طالب بلوچ گھر میں نہ ہونے کی وجہ سے بچ گیا، صادق شاہ نے جوئیہ برادری کی جس اغوا شدہ عورت سے شادی کی تھی اس نے اپنی ماں کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے اکسایا تو صادق شاہ نے اپنے حملے میں اس کی ماں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے محمد اجمل اور اللہ بچایا کو قتل کردیا، محمد اجمل کی والدہ زخمی ہوئی لیکن اسی حملے کے دوران اس کی بیوی کا بھائی بھی مارا گیا، جس کا اس کی بیوی کو شدید رنج تھا، وہاڑی میں سعید جھنڈیر کے گھر ڈکیتی کی اس میں اس گروہ کے ہاتھ جو مال لگا اس کی کچھ تفصیل یہ ہے ایک وی سی آر، دو بندوقیں ایک رائفل، ایک 22بور پستول، ایک دوربین، چار تولے سونا، کچھ نقدی اور قیمتی سامان، میلسی کہروڑ پکا کے مین روڈ پر قائم دو گھروں میں واردات کے دوران اس کے ہاتھ ایک گھر سے ایک بندوق اور پچاس ہزار روپے کے زیوارات  اور دوسرے گھر سے 23ہزار روپے نقد اور چند تولے کے زیورات ملے ۔ 
 اُسی رات کو اس نے نزدیکی بستی میں ڈاکہ ڈالا تو لوگ جاگ پڑے انہوں نے مقابلہ کیا، جس میں صادق شاہ کا ایک ساتھی  فلکا سندھڑ ایک ریٹائرڈ فوجی کی گولی کا نشانہ بن گیا،ستاری گوپانگ کے ساتھ وہ خود بھی زخمی ہوگیا، جبکہ اس نقصان کے ردعمل میں انہوں نے گاؤں کے تین بندے مار دئے اور آدھ درجن کے قریب لوگ ان کی گولیوں سے زخمی ہوئے، بکھوعاربی سکنہ احمد پور شرقیہ کے گھر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر بکھوعاربی کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا، وہاں سے اسے ڈھائی تولے سونا، کچھ نقدی اور ایک بندوق ہاتھ لگی، اس واردات پر مقتول کے رشتے داروں نے اپنے کئی مخالفین کو اس مقدمہ میں نامزد کروایاتھا اور وہ کافی عرصہ جیل کی صعوبتیں بھگتتے رہے، جیل جانے والے ان لوگوں کے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ تھا کہ یہ واردات کس نے کی اور کس نے کروائی
 اوچ شریف میں ایک ہی رات میں تین دکانوں کو لوٹا، اوچ شریف کی ایک دوسری واردات میں انہیں 47تولے سونا، وی سی آر، رائفل سیون ایم ایم اور دو موٹر سائیکل اور کچھ نقدی ہاتھ لگی، ملتان شجاع آباد روڈ پر مشتاق ارائیں کے گھر ڈاکہ سے زیورات، وی سی آر، ریوالور، بارہ بور کی بندوق اور کچھ نقدی ملی وہاں سے جاتے ہوئے صادق شاہ دھمکی دیکر گیا کہ ہمیں تمہارے مخالف نے بھیجا ہے پچاس ہزار کا مزید بندوبست کرو ہم پھر آئیں گے دو ماہ کے بعد صادق شاہ مشتاق کے گھر پھر گیاجہاں اسے مسلح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس میں 4افراد مارے گئے،(اس واردات کی متاثرہ فیملی نے میرے بھائی مجاہد جتوئی صاحب کے ذریعے مجھ سے رابطہ کرکے درخواسست کی کہ میں صادق شاہ سے اگلواؤں کہ یہ واردات اس نے کس کی فرمائش پر کی تھی) شجاع آباد میں حسن موہانہ نامی جو شخص ان لوگوں کو پناہ دیتا تھا صادق شاہ کے ایک ساتھی ستاری گوپانگ نے اس کی بیوی کو جبراً اغواکرلیا، چنی گوٹھ کے نزدیک غلام نبی واہلہ کے گھر ڈکیتی کی واردات میں 6لاکھ روپے، اور گھر کا قیمتی سامان لوٹا اسی دوران بستی کے لوگ جمع ہوگئے تو صادق شاہ اور اس کے ساتھیوں نے فائر کھول دیا جس سے تین افراد مارے گئے، سہجہ تحصیل خان پور میں نذر محمد ماچھی کے گھر ڈکیتی کے دوران عورتوں کو کپڑے اتارنے کا حکم دیا گیا اور مزاحمت پر ایک خاتون کے ساتھ نہائت درندگی کا سلوک کیا، اس واردات میں انہیں سات تولے سونا، 40تولے چاندی اور 40ہزار روپے نقد ملے، یہ واردات بھی کسی کی فرمائش پر کی گئی تھی، خانپو ر کی بستی حنیف آباد میں اپنے ایک ساتھی اللہ ڈتہ کی فرمائش پر محمود الحسن کے گھر ڈاکہ ڈالا جہاں سے انہیں 30تولے سونا، دو قیمتی گھڑیاں اور 20لاکھ پندرہ ہزار روپے نقدملے، چک نمبر 23/Pمیں فلک شیر گجر کے گھر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر محمد صادق نامی بندے کو قتل کردیا، ملزمان نے یہ واردات فلک شیر کے رشتے داروں کی ایماء پر کی تھی، جس کے ملزمان کے ساتھ تعلقات تھے، ترنڈہ محمد پناہ تحصیل لیاقت پور میں سردار احمد خاں ایڈوکیٹ کے گھر ڈکیتی کی واردات میں 6لاکھ کا مال لوٹ کر بے تحاشا فائرنگ کی اور فرار ہوگئے، راستے میں مقامی زمیندار اسد گوپانگ سے مڈ بھیڑ ہو گئی جو نہر کے کنارے درخت کٹوا رہا تھا اسد گوپانگ نے انہیں روک کر پوچھا تو جواب میں کلاشن کوف کا برسٹ ملا، اس وقوعہ میں ان کا ایک ساتھی زخمی حالت میں ٹمبر مافیا کے ہوتھ لگنے کے بعد پولیس کے ہتھے چڑھ گیا واور پھر اس زخمی نے بہت کچھ بتا کر پولیس کو ایک بڑا انکشاف کیا کہ ان سنگین وارداتوں کے پیچھے کون لوگ ہیں 
  فرمائشی وارداتوں سے اجرتی قتلوں کی جانب!!! ملزم صادق شاہ کے گینگ کی بے خوفی، بے رحمی اور وارداتوں میں چابک دستی نے علاقے میں ان کے نام کی دھاک بٹھا دی تھی جہاں شریف لوگ اس کے نام سے خوفزدہ تھے، وہاں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کو ایک آلہ کار مل گیا تھا، لہذا ملتان کی ایک پارٹی نے ایک معروف سیاسی شخصیت کو ٹھکانے لگانے کے لئے انہیں 5لاکھ روپے کی آفر دی، جس کو انہوں نے قبول کرلیا، معاملہ ادھار اور نقد پررکا ہوا تھا کہ اسی دوران ملزمان کا ایک ساتھی انوماچھی خان پور سے ڈیڑھ لاکھ روپے ایک مقامی کونسلر کو قتل کروانے کے لئے لے آیا، انو ماچھی کے بیان مطابق یہ رقم وہاں کے ایک اور کونسلر نے دی تھی،بتایا یہ جاتا تھا کہ انو ماچھی مذکورہ شخص کا باڈی گارڈ بھی رہ چکا تھا،

 یہ گروہ خان پور شہر کے ہردلعزیز کونسلر ملک سلطان محمود مرحوم کو قتل کرنے  کی سپاری لے چکے تھے، جس کے لئے صادق شاہ 19جنوری 1994کو رات کے تقریباً  آٹھ بجے اپنے ساتھیوں اللہ ڈتہ بوہڑ اور حمیدے ماچھی کے ہمراہ ایک ہی موٹر سائیکل پر غریب آباد کے (اُس وقت) آخری مکان کے باہر پہنچے، حمیدے ماچھی کو پتہ تھا کہ اس وقت ملک سلطان محمود ڈیرے پر بیٹھا ہوگا، صادق شاہ کے مطابق ہم جونہی تینوں افراد دیرے پر پہنچے ڈیرے کی حالت اور پھر ملک سلطان محمود کی بھاری بھرکم رعب داب والی شخصیت دیکھ کر میں  نے اس وقت فیصلہ کرلیا تھا کہ یہ بندہ ڈیڑھ لاکھ روپے میں مارنے کے قابل نہیں ہے، (اس لئے وہ چونکہ اندر آچکے تھے اس لئے واپس جانے کی بجائے بیٹھک میں چلے گئے)  صادق شاہ اور اس کے تمام ساتھی مسلح تھے، صادق شاہ کے پاس کلاشن تھی جبکہ دوسرے ساتھیوں کے پاس پسٹل تھے، جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکاہوں کہ ملک سلطان محمود مرحوم اس وقت کھانا کھا رہے تھے صادق شاہ ساتھ بیٹھ گیا مقصد ان کا یہی تھا کہ ہم گفتگو کرکے واپس چلے جائیں اگر قتل کروانے والے نے رقم میں اضافہ کردیا تو پھر آکر یا راستے میں روک کر ماردیں گے وگرنہ پیسے واپس کردیں گے، ابھی گفتگو جاری تھی ملک سلطان محمود مرحوم بظاہر کھانا کھا رہے تھے مگر ان کا ذہن بڑی تیزی سے چل رہا تھا کہ اس صورتحال کا مقابلہ یا سامنا کیسے کیا جائے؟ اد مرحوم کو تو علم نہیں تھا کہ میرے بظاہر قاتل اب قتل کرنے کا ارداہ ترک کرچکے ہیں کھانا کھاتے کھاتے اچانک ملک سلطان محمود نے سامنے میز پر پڑی کلاشن پر جھپٹا مارا، مگر اس سے پہلے کہ کلاشن ملک سلطان محمود کے ہاتھ میں آجاتی صادق شاہ نے کلاشن اپنے قابو میں کی کلاشن کا بلٹ پہلے ہی چٹؤڑھا ہوا تھا بس صرف ٹریگر پر ہی انگلی اک دباؤ بڑھانا تھا، اب وہ دباؤ پہلے سے زیادہ سرعت اور تیزی سے بڑھا گیا کلاشن سے چھٹانکلا جو ملک سلطان محمود کے علاوہ سامنے کھڑا اللہ ڈتہ بوہڑ بھی اس کی زد میں آگیا، اس گھبراہٹ میں جب یہ لوگ فوراً باہر نکلے تو حمیدا ماچھی باہر پڑے ہل کی نوک لگنے سے زخمی ہوگیا، صادق شاہ کے دونوں ساتھی زخمی ہوچکے تھے، فائرنگ کی آوازپر کسی نے کان نہ دھرے کیونکہ ملک سلطان محمود مرحوم اکثر اپنی رائفل چیک کرنے کے لئے ڈیرے پر بیٹھے بیٹھے فائرنگ کرتے رہتے تھے، اس مرتبہ بھی گھر والوں نے یہی سمجھا کہ وہ خود ہی فائرنگ کررہے ہیں، ادھر صادق شاہ کے لئے صورتحال گھمبیر ہوگئی تھی، مگر وہ ایسے تو نہیں اتنے سفاک لوگوں کا لیڈر بنا ہوا تھا، یقیناً اس میں قائدانہ صلاحیت تھی، تبھی تو اس کے ساتھی جو جثے میں اس سے بھاری بھرکم، رعب دار اور خطرناک لگتے تھے مگر ایک چھیل چھبیلے چھوکرے جیسے بندے کو اپنا سردار مانتے تھے،اس میں فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت بدرجہ اُتم موجود تھی، ملک سلطان محمود کے ڈیرے پر اس وقت ایک گدھا گاڑی موجود تھی جس میں اشرف عرف اچھو نامی محنت کش سبزی منڈی لے جانے کے لئے پالک لوڈ کررہاتھا، صادق شاہ نے اسے حکماً کہا کہ ووئے، اے پالک لہا تے میڈے یار کوں اپنڑی ریڑھی تے بلہا، اس کی کیا مجال کے وہ اس کا حکم نہ مانتا، صادق شاہ نے سہارا دیا اللہ ڈتہ بوہڑ کھوتا ریڑھی پر لمبا لیٹ گیا، صادق شاہ نے دوسرے زخمی حمیدے ماچھی کو اپنے پیچھے موٹر سائیکل پر بٹھایا اور ریڑھی کا رخ بستی اوکھر وند کیجانب کروا دیا، ڈیرے پر موجود ڈرائیور اللہ بخش(پچھلی قسط میں غلطی سے اللہ بخش کا نام خدا بخش لکھا گیا) کو صادق شاہ نے گریبان سے پکڑ کر اپنے چہرے کے قریب کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھ جے تئیں ساڈے ونجنڑ دے بعد شور مچایا تاں، اساں ول آ سگدوں جے اج نہ ولوں تاں ول کل آسگدوں!! یہ دھمکی سنتے ہی اللہ بخش کی تو ہوا نکل گئی، جبکہ صادق شاہ خود موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کھوتا ریڑھی کے پیچھے پیچھے چلتا گیاجب وہ تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرگئے تو صادق شاہ نے ریڑھی رکوائی، زخمی کو نیچے اتارا اور ریڑھی والے کو واپس جانے کا حکم دیا اور خود اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بستی ماچھیاں رسول بخش ماچھی کے گھر روپوش ہوگیا !  اُدھر اللہ بخش ڈرائیور پرچند لمحے تو ظالم قاتلوں کی دھمکی کا اثر رہا اور وہ خوفزدہ ہوکر خاموش رہا مگر آخر کب تک وہ خاموش رہتا جب وہ خوف سے آزاد ہوا تو اسی طرح ننگے پاؤں ہی ڈیرے کے ساتھ منسلک گھر کی دہلیز کراس کرکے اندر چلا گیا اور روتے سسکتے اللہ بخش نے ملک سلطان محمود مرحوم کی ہمشیرہ کو کہا کہ ملک صاحب کوں ڈاکو پئے گن، یہ کہنا تھا کہ ملک صاحب کی ہمشیرہ دوڑتے ہوئے ڈیرے کی جانب لپکی اس کا بھائی اس کا شیر ویر بیٹھک کے فرش پر ذبح ہوا پڑا تڑپ رہا تھا، اللہ بخش پانی لے آیا بہن نے بھائی کا سر گود میں رکھا اسے پانی پلایا، ملک مرحوم نے پانی کے چند گھونٹ لئے اور پھر اپنی بہن کی جانب دیکھا ساتھ کھڑے اپنے بیوی بچوں کی جانب اشارہ کیا جیسے وہ کہہ رہا ہو، میری بہن ان کا خیال رکھنا، بہن نے بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تسلی کروائی ساتھ یہ بھی کہا، تینوں کجھ نئیں ہونڑا توں ہمت کر، ہنڑے ہسپتال چلدے آں، مگر ملک سلطان محمود کو تو اندازہ ہوچکا تھا کہ زخم کاری ہے، ظالموں کا وار چل گیا ہے میرا وقت واقعی آن پہنچا اور ایک بار پھر گود میں پڑے پڑے بہن کی جانب التجائی نظروں سے دیکھا۔ آخری سسکی لی اور پھر آنکھیں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!! بند ہوگئیں!!! 
 ملک سلطان محمود اللہ کی بارگاہ میں چلا گیا، ان کے بچے چھوٹے چھوٹے تھے اس لئے ان کے قتل کا مقدمہ ان کے بڑے بھائی آصف محمود کے 15سالہ بیٹے حسن محمود کو مدعی بناکر خواجہ الطاف کریم مرحوم سابقہ کونسلر کو ساتھ دکھا کر مقدمہ نمبر 15/94بتاریخ 19 جنوری 1994بوقت وقوعہ آٹھ بجے رات تھانہ سٹی خان پور میں درج کروایا گیا، اس وقت تو کسی کو ذرا سابھی شائبہ نہیں تھا کہ اتنے ہردلعزیز بندے کو کوئی قریبی ہمسائیہ سیاسی رنجش و رقابت رکھتے ہوئے اجرتی قاتلوں سے ایسا مکروہ اور بدبودار عمل کا مرتکب بھی ہو سکتاہے؟ گو یہ انداز ستمگرانہ اس وسیب کا قطعاً نہیں تھا،  جس شخص نے  مبینہ طور پریہ قتل کروایامیں یہاں اس شخص کا ذکر گول کرتا ہوں کیونکہ وہ بھی اب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ چکا ہے، اس کا نام لکھ کر اس کی اولاد کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتا مگر یہ کردار عیاں اس وقت ہوا تھا جب صادق شاہ پکڑا گیا اور اس نے بغیر کسی تشدد والی تفتیش کے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا تھا، جب صادق شاہ کو اس وقت کے ڈی ایس پی رائے مقصود کھرل مرحوم اور چوہدری حفیظ مرحوم کی سرتوڑ کوشش کے بعد ضلع مظفرگڑھ سے خان پور لایا گیا ، تو وہ کیامنظر تھا؟ صادقشاہ قیدیوں والی ایک وین میں اکیلا ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا ، وین کی چھت پر مسلح پولیس اہلکار اآگے پیچھے منہ کرکے بیٹھے تھے ، ایک گاڑی مسلح اہلکاروں کی اس وین سے آگے تھی اور دوسری پیچھے ، قیدیوں والی وین کے ڈرائیور کے ساتھ چوہدری حفیظ اے ایس آئی بیٹھا تھا، جب یہ قافلہ تھانہ صدر آکر رکا تو چوہدریحفیظ ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ نیچے اترا (اس کی جدوجہد کو دیکھیں تو اس کی مسکراہٹ بنتی بھی تھی ) وین کے تھانے کے مین گیٹ سے ایسے لگایا گیا کہ اس کا منہ دوسری جانب اور پچھواڑہ کھلے گیٹ کی جانب تھا، وین سے صادق شاہ کو اتارا گیا، وہ بھی بڑی ادا سے اُترا تھا( جیسے کہہ رہا ہو کہ جتنا میرا نام تھا اتنا پروٹوکول مجھے ملا ہے ، چوہدری حفیظ تیرا شکریہ ہے ) صادق شاہ کو اس وقت کی زنانہ حوالات میں رکھا گیا ، اس کے ہاتھ حوالات کی سلاخوں سے باندھے گئے اور پاؤں میں بیڑیں پہنائیں گئیں، تھانے کی چھت پر چاروں جانب مسلح پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی ، تھانے کے مین گیٹ کو چھوڑیں جو گیٹ باہر سڑک پر ہے وہاں بھی مسلح اہلکار بٹھائے گئے پورے تھانے کے اردگرد ایک قسم کا کرفیو لگادیا گیا ، میں پوری کوشش کے بعد تیسرے دن صادق شاہ سے مل سکا تھا ، مجھے اس سے بہت کچھ پوچھنا تھا اس لئے میں نے اپنا حربہ استعمال کیا (وہ یہاں بتانے سے قاصر ہوں کہ مین جرائم پیشہ بندے سے بات اگلوانے کے لئے کیاکیا کرتاہوں ) مجھے خاص طور پر اپنے شہر کے ہردلعزیز اور دلیر انسان ملک سلطان محمود کے قتل بارے اس سے بہت کچھ پوچھنا تھا جو اس نے میری دوسری ملاقات کے بعد بتایا کہ  جو قتل ہم نے غریب آباد کے کونسلر کا کیا تھا اس کی ڈیل میرے ساتھی حمیدے ماچھی نے انو ماچھی کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ روپے میں کی تھی، اس نے بتایا کہ مجھے نہیں پتہ کہ انو ماچھی وہ رقم کس سے لیکر آیا تھا، البتہ یہ قتل ہم کو بہت مہنگا پڑا، اس سے جب یہ سوال کیا کہ تمہارے دوساتھی ایک گولی سے اور دوسرا ہل کی نوک  سے زخمی ہوگیاتھا پھر تم لوگ کیسے ایک کھوتا ریڑھی کے ذریعے فرار ہوئے؟ اس نے بتایا کہ جب ہم وہاں سے فرار ہوئے تو بستی ماچھیاں میں رسول بخش ماچھی کے گھر پہنچے، وہاں سے دوسرے دن زخمی اللہ ڈتہ بوہڑ کو حبیب اللہ ماچھی کے گھر ماچھی گوٹھ پہنچایا، حبیب اللہ ماچھی نے ڈاکٹر ناصر محمود سے ایکسرے کروانے کے بعد اسے مجیب شہید ہسپتال رحیم یار خاں میں داخل کروایا جہاں کے سرجن ڈاکٹر آغا محفوظ نے 35ہزار روپے کے عوض اس کا آپریشن اور علاج کیا۔ اس نے بتایا کہ ہمارا پچاس ہزار روپے مزید خرچہ ہوا، ہم نے انو ماچھی کے ذریعے مذکورہ شخص کو پیغام پہنچایا کہ ہمیں پچاس ہزار روپے مزید ادا کرو مگر وہاں سے جواب انکار کی صورت میں آیا تو ہم نے سوچ لیا تھا کہ پہلے مکمل تندرست ہوں لیں پھر اس  بندے کے ساتھ بھی حساب کتاب برابر ضرور کریں گے۔
 تندرستی کے بعد یہ لوگ ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی چلے گئے ، جہاں ان کے ساتھی ستاری گوپانگ نے فرمائش رکھ دی کہ میں اپنی مفروری کے دوران اپنی بہن کو اپنی برادری کے ایک گھر میں امانت کے طور پر دے گیا تھا جہان ان لوگوں نے میری بہن کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے ، میری خواہش ہے کہ میں اس کا بدلہ لوں اور پھر یہ سارے بیٹ ملاں والی پہنچے جہاں انہوں نے افضل گوپانگ ولد سدو خاں گوپانگ کے گھر جو کچھ کیا اس کو بیان کرنے کے لئے ہی بڑا دل گردہ چاہئے میں ایک کمزور بندہ ہوں ایسا واقعہ بیان کرتے یا لکھتے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں کہ ان لوگوں نے وہاں !!!!!!!!!!!!!!!!! قمر اقبال جتوئی خان پور 03006734560

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے